عید الاضحی، دو بڑی فلسطینی تنظیموں کی قیادت کے درمیان رابطہ

مفاہمت اور قومی اتحاد پر زور، فون پر رابطہ عید کی مبارکباد کیلیے ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عیدالاضحی کے موقع پر فلسطینیوں کی متحارب سیاسی جماعتوں کے درمیان فون پر رابطہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دینے کے علاوہ باہمی مفاہمت پر بھی زور دیا گیا ہے ۔

غزہ کی حکمران جماعت غزہ کے ایک ذمہ دار کے مطابق وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے اس فون کال کے دوران کہا ''فلسطین کاز کیلیے قومی اتحاد کی طرف پلٹنا اور تقسیم کو ختم کرنا ضروری ہے۔''

واضح رہے حماس غزہ میں جبکہ فتح مغربی کنارے کے علاقے میں اکثریت رکھتی ہے۔ دونوں کے درمیان 2007 سے مسائل چلے آرہے ہیں۔ تاہم 2011 سے مصر کی مدد سے طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں اس دوطرفہ تنازعے میں کمی آگئی ہے۔

مصر کی مدد سے 2011 میں ہونے والے معاہدے کے تحت نئے پارلیمانی اور صدارتی انتخاب کی بارہ ماہ کے اندر راہ ہموار ہونا تھی۔ لیکن اس معاہدے پر عمل درآمد رکاوٹوں کا شکار ہے۔ کیونکہ دونوں جماعتوں کے درمیان عبوری حکومت پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ ۔حماس وزارت عظمی کے منصب پر رامی حمداللہ کو نہیں چاہتی بلکہ اسماعیل ہنیہ کو چاہتی ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ مصر کے صدر مرسی کی برطرفی کے بعد سے اسے سخت معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ مصری فوج کی طرف سے زیر زمین راستوں کو تباہ کیے جانے کے باعث ایندھن اور کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی ممکن نہیں رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں