معاشی پابندیوں کے شکار غزہ میں عید الاضحیٰ کی خوشیاں ماند

پینتیس ہزار بھیڑیں سرنگوں کے راستے غزہ لائی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور مصر کی جانب سے فلسطین کے گنجان آباد غزہ کی پٹی کی سرحدیں سیل کیے جانے کے بعد محصورشہر کے باسیوں کوایک مرتبہ پھر سخت معاشی بحران سے گذرنا پڑا ہے۔ شہر کی واحد بین الاقوامی گذرگاہ "رفح" کی بندش کے بعد مصرسے متصل سرحد پرزیرزمین کھودی گئی سرنگیں بھی دوبارہ فعال ہونے لگی ہیں اور مفلوک الحال شہری ان سرنگوں کے راستے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ضروری اشیاء سرحد پار سے اسمگل کرنے پر مجبور ہیں۔

غزہ کے شہری اسی زبوں حالی کی کیفیت میں عیدالاضحٰی منا رہے ہیں۔ معاشی بحران، سرحدوں کی بندش اور مہنگائی نے عید کی خوشیاں بھی گہنا دی ہیں۔ گوکہ اس وقت محصور شہری مصرکی جانب سے ضروری اشیاء اسمگل کرتے ہیں مگر مصری فوج نے سرحد پرکھودی گئی سرنگوں کی مسماری کے لیے ایک بڑا آپریشن بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ مصری فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے غزہ کی سرحد پر کھودی گئی زیرزمین 90 فی صد سرنگیں تباہ کردی ہیں۔

غزہ کے ایک شہری اشرف الکومی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی"رائیٹرز" سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی عید کی تیاریوں پر کچھ یوں بات کی "کبھی ہم لوگ بھی عید کی خوشیاں منایا کرتے تھے۔ جب عید آتی تو لوگ خوشی خوشی بازاروں کا رخ کرتے اور اپنی مرضی کی شاپنگ کرتے تھے۔ اب نہ بازاروں میں کچھ بچا ہے اور نہ ہی لوگوں میں خریداری کی سکت باقی ہے۔ بس عید خوشی نہیں ایک بوجھ ہی بن کر آئی ہے"۔

مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں اندازہ تھا کہ سرحدیں سیل ہونے کے بعد عید سے قبل بہت کم لوگ بازاروں کا رخ کریں گے۔ تاہم غزہ کی حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی وزارت زراعت کا کہنا ہے کہ شہر میں بھیڑ بکریوں کی کمی نہیں ہے اور عوام کو عید کے موقع پر قربانی اور دیگر ضروریات کے لیے وافر گوشت میسر ہوگا۔

غزہ کی پٹی میں مارکیٹنگ اور گذرگاہ امور کے ڈائریکٹرجنرل تحسین السقاء نے "رائیٹرز" کو بتایا کہ حالیہ چند چند ہفتوں کے دوران غزہ کی پٹی میں مصر کی جانب سے 40 ہزار بھیڑ بکریاں لائی گئیں جن میں سے 35 ہزار بکریاں خفیہ سرنگوں سے راستے غزہ منتقل کی گئی ہیں جبکہ پانچ ہزار مغربی کنارے کی کرم ابو سالم کے راستے غزہ لائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پرسالانہ 60 ہزار بھیڑ بکریاں تیار کر لی جاتی ہیں۔ چالیس ہزار بیرون ملک سے منگوانے کے بعد ایک لاکھ بکریوں سے عید کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ تحسین السقاء کا کہنا تھا کہ سال بھرمیں شہری صرف پچاس ہزار بھیڑ بکریوں کا گوشت استعمال کرتے ہیں باقی پچاس ہزار عید پر کام آتی ہیں۔

ٰخیال رہے کہ فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں سنہ 2007ء کےبعد سے اسرائیل مخالف تنظیم حماس کی حکومت قائم ہے۔ اسرائیل نے حماس کے خلاف اسی دیرینہ دشمنی کے تحت غزہ کی پٹی کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ مصر میں تین جولائی کے فوجی اقدام سے قبل قاہرہ کی جانب سے غزہ سرحد کو کھلا رکھا تھا تاہم نئی نگراں حکومت نے غزہ کی پٹی کے حوالے سے اپنی پالیسی ایک مرتبہ پھرسخت کردی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں