نوبل انعام مجھے ملنا چاہیے تھا: بشارالاسد

شامی اپوزیشن پہلے ہی نوبل انعام کے فیصلے پر تنقید کر چکی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شام کے صدر بشارالاسد نے شامی اپوزیشن کی طرف سے نوبل انعام کے فصلے کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد مذاق کے پیرائے میں یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ'' نوبل انعام تو انہیں ملنا چاہیے تھا''، اس امر کا اظہار انہوں نے ایک لبنانی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔

واضح رہے یہ نوبل انعام جمعہ کے روز کیمیائِی ہتھیاروں کے امتناع کیلیے کام کرنے والے بین الاقومی ادارے کو دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس فیصلے پر شامی اپوزیشن نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوبل انعام بالواسطہ طور پر بشارالاسد اور ولادی میر پیوٹن کو دے دیا گیا۔ اب بشار الاسد نے اسی کا نام لیے بغیر ذکر دوسرے پیرائے میں کیا ہے۔

واضح رہے شامی صدر اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں کہ 21 اگست کو الغوطہ میں پیش آنے والے سانحے کے بعد بھی امریکی حملے سے بچ گئے ہیں اور کمیائی معاملہ ان کی مرضی کے قریب تر طے کیا جا رہا۔

دوسری جانب شام کی اپوزیشن جماعتیں جنیوا امن کانفرنس کے حوالے سے بھی ایک رائے پر متفق نظر نہیں آتی ہیں جو بشارالاسد کے لیے مزاحیہ پیرایہ اختیار کرنے کا ایک موقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں