القاعدہ کمانڈر اللیبی کے خلاف ٹرائل کی تیاری

مقدمہ نیویارک ڈسٹرکٹ کی عدالت میں چلایا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کینیا اور تنزانیہ میں مبینہ طور پر تقریبا پندرہ سال قبل دو سو سے زائد امریکیوں کے قتل میں ملوث القاعدہ کے کمانڈر ابو انس اللیبی کے خلاف نیویارک میں باضابطہ طور پر مقدمہ کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اس امر کا انکشاف امریکی پراسیکیوٹر نے منگل کے روز کیا ہے۔

ابو انس اللیبی کو اسی ماہ کے آغاز میں امریکی کمانڈوز نے ایبٹ آباد پاکستان میں کیے گئے ایک آپریشن کی طرز پر لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے گرفتار کیا تھا۔

لیبی کو گرفتاری کے بعد ایک امریکی بحری جنگی جہاز پر کئی دنوں تک زیر تفتیش رکھا گیا۔ امریکی سکیورٹی ذرائع کے مطابق لیبی کو آج کسی وقت عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ابو انس اللیبی کی گرفتاری جہاں القاعدہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے وہیں لیبیا کی حکومت نے ابتداء میں اس کی گرفتاری، امریکیوں کے ہاتھوں لیبیا کی سر زمین پر کیے جانے پر تنقید کی تھی اور لیبیا کی وزارت انصاف نے اس سلسلے میں امریکی سفیر کو طلب بھی کیا تھا۔

لیبیا میں ابو انس کی گرفتاری کے کے چند ہی روز بعد وزیر اعظم علی زیدان کے چار گھنٹوں کے لیے مبینہ اغوا کو بعض حلقوں نے اسی واقعے کا ردعمل قرار دیا تھا۔

امریکا کے جنوبی ضلع نیو یارک کے اٹارنی جنرل پریٹ بحارارا کے مطابق ابو انس اللیبی کو ڈسٹرکٹ نیو یارک کےعدالتی آفیسر کے سامنے پیش کیے جانے کی تیاری ہے۔ جہا ں القاعدہ کا یہ کمانڈر 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارتی مشنوں پر کی جانے والی دو کاروائیِوں کے الزام کا سامنا کرے گا۔

واضح رہے 49 سالہ اللیبی ایف بی آئی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل تھا اور اس کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کی گئی تھی۔ اللیبی کی گرفتاری پر صدر اوباما نے اسے عدالت کے سامنے پیش کرنے کا عند یہ دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی اداروں کے پاس اس کے خلاف ٹھوس شہادتیں مو جود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں