شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی 11 جگہوں کی توثیق

یواین مشن 2014ء کے وسط تک کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا کام جاری رکھے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں نے شام میں گیارہ جگہوں کی توثیق کردی ہے۔دمشق حکومت نے اپنی دستاویز میں کیمیائی ہتھیاروں کی ان جگہوں کی نشاندہی کی تھی۔

ہیگ میں قائم تنظیم برائے امتناع کیمیائی ہتھیار(او پی سی ڈبلیو) نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے مشن نے گیارہ جگہوں میں تصدیقی سرگرمیاں مکمل کرلی ہیں۔نوبل امن انعام یافتہ اس ادارے اور اقوام متحدہ کے ساٹھ ماہرین اورمعاونین پرمشتمل ٹیم اکتوبر کے آغاز سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی جگہوں کے معائنے کا کام کررہی ہے۔

اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین نے دو ہفتے قبل شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی جگہوں کو محفوظً بنانے کے لیے کام کا آغاز کیا تھا۔ان جگہوں پر بعد میں کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کیا جائے گا۔

شامی حکومت نے اب تک روس اورامریکا کے درمیان جنیوا میں 14 ستمبر کو کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے طے پائے سمجھوتے کی پاسداری کی ہے۔اس سمجھوتے کے تحت آیندہ سال کے وسط تک شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کیا جائے گا اوراس وقت تک اقوام متحدہ کا مشن اپنا کام جاری رکھے گا۔

اسی سمجھوتے کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےاتفاق رائے سے قرارداد منظور کی تھی جس میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی پر زوردیا گیا ہے اور دوسری صورت میں شامی رجیم کو سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شام کے پاس ایک ہزار ٹن سے زیادہ سیرن اور مسٹرڈ گیس اور دوسرے ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے اور انھیں پینتالیس جگہوں پر رکھا گیا ہے۔اب اقوام متحدہ کے معائنہ کار ان جگہوں کو محفوظ بنانے کاکام کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں