شام:کردوں اور جہادیوں میں جھڑپیں،41 افراد ہلاک

تیل کی دولت سے مالا مال الحسکہ پر کنٹرول کے لیے خونریز لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شام کے شمال مشرقی علاقے میں مقامی کرد جنگجوؤں اور جہادیوں کے درمیان خونریز جھڑپوں میں اکتالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال صوبے الحسکہ کے متعدد دیہات سے تعلق رکھنے والے کرد جنگجوؤں اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم ریاست اسلامی عراق و شام اور النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ دوروز سے شدید لڑائی ہورہی ہے۔

اس خونریز لڑائی میں ریاست اسلامی عراق و شام اور النصرۃ محاذ کے انتیس جنگجو مارے گئے ہیں اور ان میں النصرۃ محاذ کا مصری نژاد مقامی لیڈر بھی شامل ہے۔ان کے ساتھ جھڑپوں میں ''کمیٹی برائے تحفظ کردعوام'' سے تعلق رکھنے والے بارہ جنگجو ہلآک ہو گئے ہیں۔

الحسکہ کے ان دیہات میں ریاست اسلامی عراق وشام سے وابستہ جہادیوں اور کردجنگجوؤں کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے لڑائی جاری ہے اور ان کے درمیان تازہ جھڑپیں منگل کی صبح شروع ہوئی تھیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہادی اس علاقے میں اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کرد جنگجو ان کے آڑے آرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں