.

سعودی عرب پہلی مرتبہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بن گیا

چاڈ، چلّی، لیتھوینیا اور نائیجیریا بھی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب پہلی مرتبہ دوسال کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ملک بن گیا ہے۔

سعودی عرب کے علاوہ چاڈ، چلّی، لیتھوینیا اور نائیجیریا بھی پندرہ رکن ممالک پر مشتمل سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن منتخب ہوگئے ہیں۔یہ پانچوں ممالک یکم جنوری 2014ء کو آذربائیجان، پاکستان، گوئٹے مالا، مراکش اور ٹوگو کی جگہ سلامتی کونسل کی دوسال کے لیے نشستیں سنبھالیں گے۔

سلامتی کونسل کی غیرمستقل نشست کے لیے ان پانچوں ممالک کا اتفاق رائے سے انتخاب کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود انھیں اپنی نشستیں محفوظ بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے دوتہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔

سعودی روزنامے الریاض کے ایڈیٹر انچیف یوسف الکویلیت نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو بین المذاہب مکالمے کے اقدام سے سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے حصول میں مدد ملی ہے۔

سعودی عرب نے ؁ 2011ء میں ویانا میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بین الاقوامی مرکز برائے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمہ کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ ایک غیر منافع بخش اور غیر سرکاری ادارہ ہے۔

یوسف الکویلیت کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کا رکن بننے کے بعد سعودی عرب کی علاقائی ایشوز کے حوالے سے ذمے داریاں دوچند ہوجائیں گی۔خاص طور پر شامی تنازعے کے حوالے سے اس کی ذمے داریاں بڑھ جائیں گی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب شام کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل ارکان ہیں۔انھیں ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہے اور ویٹو کا اختیار حاصل نہیں۔ان میں سے پانچ، پانچ ممالک کا ہردوسال کے بعد انتخاب کیا جاتا ہے۔پانچ مستقل ممالک روس، امریکا، برطانیہ، چین اور فرانس کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔