.

کیمیائی ہتھیار: عالمی مشن کی سربراہ مس کاگ عرب دنیا کی شناور

خود جرمن، شوہر فلسطینی، عربی پر عبور،اسماء الاسد سے بھی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی طرف سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے عالمی مشن کی نامزد سربراہ جرمن شہری اور اقوام متحدہ کی اسٹنٹ سیکرٹری جنرل مس کاگ اپنے کام کا آغاز کرنے والی ہیں۔ مس کاگ ایک غیر معمولی منتظم اور مشرق وسطی سے محبت کرنے والی خاتوں کی شہرت رکھتی ہیں۔

مس کاگ اپنے فلسطینی سفارت کار شوہر اور چار بچوں کو چھوڑ کر جب نیو یارک سے دمشق روانہ ہوں گی تو ان کی زندگی ایک بڑی تبدیلی کا سامنا کر رہی ہو گی۔ ان کے اس مشن کی اس سے پہلے کہیں کوئی مثال نہیں ہے۔

اس مشن کی سربراہی حاصل کرنے کیلیے اقوام متحدہ کے اندر اعلی سطح کے روابط ، عرب لیڈروں کے ساتھ قریبی تعلقات ، عرب کلچر سے واقفیت اور عربی زبان بولنے پر قدرت رکھنے والی 52 سالہ مس کاگ پچھلے بیس برسوں سے اقوام متحدہ کی مختلف باڈیز کا حصہ رہ چکی ہیں۔

دمشق کو مرکز بناتے ہوئے پورے شام کے طول و عرض میں اپنے مشن کے دوران وہ ایک سو ارکان پر مشتمل معائنہ کاروں کی ٹیم کی قیادت کریں گی۔

وہ اس سے پہلے متعدد بار یہ ثابت کر چکی ہیں کہ وہ ایک کامیاب منتظم، قائدانہ صلاحیتوں کی حامل خاتون ہیں۔ ان کے سابق رفقا کا کہنا ہے وہ مضبوط ایک شخصیت ہیں اور انہیں سختی کے ساتھ اپنی ٹیم سے کام لینا آتا ہے۔

مس کاگ کے ایک سابق رفیق کار کہنا تھا '' شام میں کیمیائِی ہتھیاروں کی تلفی کے مشن کیلیے کسی ایسے قائد کی ضرورت تھی جو سیاسی حوالے سےبھی تعلقات رکھتا ہو، انتظامی اعتبار سے مستحکم تجربہ رکھتا ہو، نیز سلامتی کونسل کے رکن ارکان کے ساتھ بھی رابطے کا تجربہ ہو، یہ تمام خصوصیات مس کاگ میں ہیں۔''

انہیں شام میں کام کا بھی تجربہ ہے کیونکہ وہ اقوام متحدہ کی ریلیف سرگرمیوں کا یروشلم میں بھی حصہ رہ چکی ہیں۔ ان کی زیر نگرانی امدادی سرگرمیوں کا دائرہ لبنان اور اردن کے علاقوں میں موجود فلسطینی پناہ گزینوں تک پھیلا ہوا تھا۔

اس سے پہلے مس کاگ جرمنی کی وزارت خارجہ کے ساتھ بھی کام کر چکی ہیں اور شامی صدر بشارالاسد کی اہلیہ اسماء الاسد سے بھی 2008 میں ان کی ایک ملاقات ہو چکی ہے۔