.

حلب میں شامی فوج اور باغی جنگجوؤں میں خونریز جھڑپیں،متعدد ہلاک

الاخضرالابراہیمی ہفتے کے روز مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی صوبہ حلب میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں بیسیوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی ہفتے کے روز مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہورہے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے حلب میں جاری لڑائی میں بیسیوں افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ان میں بارہ کرد شہری ایک قصبے تل آران پر سرکاری فوج کی گولہ باری میں مارے گئے ہیں۔گذشتہ روز اسی قصبے میں گولہ باری سے نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ قصبہ حلب شہر اور باغیوں کے زیر قبضہ قصبے سفیرہ کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے۔اسی قصبے کے نزدیک شامی فوج کا ایک اڈا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں اسدی فوج نے کیمیائی ہتھیار ذخیرہ کررکھے ہیں۔

آبزرویٹری نے حلب شہر کے جنوب مغرب میں واقع فضائی دفاعی اڈے پر باغی جنگجوؤں کے ایک حملے کی بھی اطلاع دی ہے۔اس حملے میں بیس سرکاری فوجی مارے گئے ہیں اور جھڑپ میں سات باغی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر مشرقی شہر دیرالزور میں بھی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے اور وہاں سرکاری فوج کے جنگی طیاروں نے باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔دیرالزور کے علاقے راشدیہ میں جمعرات کو شامی فوج کے انٹیلی جنس افسر میجر جنرل جمعہ جمعہ مارے گئے تھے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کا ایک نشریے میں کہنا ہے کہ جنرل جمعہ دیرالزور میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران شام کا دفاع کرتے ہوئے مارے گئے ہیں۔آبزرویٹری نے بتایا کہ جنرل جمعہ صوبہ دیرالزور میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ تھے اور وہ راشدیہ میں جہادیوں اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔اس کے علاوہ القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے جھڑپوں کے دوران دس فوجیوں کو گرفتار کرنے کے بعد گولی مار کر قتل کردیا ہے۔

سفارتی کوششیں

درایں اثناء شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ وہ شامی بحران کے حل کے لیے نئی سفارتی کوششوں کے ضمن میں ہفتے کے روز مصر پہنچ رہے ہیں۔

جنیوا میں ان کی خاتون ترجمان خولہ مطر نے بتایا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے دورے کے پہلے مرحلے میں قاہرہ جائیں گے جہاں وہ مصری وزیرخارجہ اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل سے بات چیت کریں گے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کے مکمل دورے کی تفصیل ابھی طے نہیں کی گئی ہے لیکن وہ شام اور ایران بھی جائیں گے۔

عالمی ایلچی کے علاوہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری بھی جنیوا میں مجوزہ شام امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشاں ہیں اورآیندہ ہفتے اس سلسلے میں یورپ کا دورہ کریں گے۔انھوں نے جمعرات کو امریکی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے شام میں قیام امن کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا۔انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ''شامی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے''۔

جان کیری نے بتایا کہ وہ آیندہ منگل کو لندن میں شامی حزب اختلاف کے ساتھ مجوزہ جنیوا کانفرنس کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔ روس اورامریکا شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے مئی سے اب تک اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوششیں کررہے ہیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

اسی ہفتے کے آغاز میں شامی قومی اتحاد میں شامل سب سے بڑے گروپ شامی قومی کونسل (ایس این سی) نے اس مجوزہ جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کونسل کے صدر جارج صبرا نے ایک بیان میں کہا کہ ''شامی قومی کونسل نے برسرزمین موجودہ حالات کے پیش نظر جنیوا نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اگرشامی قومی اتحاد جنیوا میں امن بات چیت میں شرکت کرتا ہے تو ہم اس میں شامل نہیں رہیں گے''۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ''اگر شام میں برسرزمین عوام مصائب کا شکار رہتے ہیں تو ایس این سی اسد رجیم کے خاتمے سے قبل مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی''۔

شامی قومی اتحاد مجوزہ جنیوا کانفرنس میں شرکت یا عدم شرکت کے حوالے سے آیندہ ہفتے کوئی فیصلہ کرے گا۔تاہم شامی حکومت یہ واضح کرچکی ہے کہ صدر بشارالاسد کی رخصتی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے جبکہ شامی اپوزیشن کا سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ بحران کے حل اورعبوری حکومت کے قیام کے لیے صدربشارالاسد اقتدار چھوڑدیں۔