.

شامی فوج کا جنرل دیر الزور میں باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک

لبنان سے شامی فوج کے انخلا میں جنرل جامع نے اہم کردار ادا کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی صوبے میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے ایک حملے میں بشار الاسد نواز فوج کے ایک جرنیل کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ش

امی ٹی وی کے مطابق میجر جنرل جامع جامع دیرالزور صوبے میں ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ تھے۔ العربیہ ٹی وی کے مطابق جنرل جامع شام میں انتہائی طاقتور اور بااثر سمجھے جانے والے فوجی افسران میں سے ایک تھے۔ شامی ٹی وی نے یہ نہیں بتایا کہ جنرل جامع کب اور کس طرح ہلاک ہوئے تاہم برطانیہ میں قائم شامی اپوزیشن تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ جنرل جامع کو اس وقت تاک کر نشانہ بنایا گیا، جب دیرالزور میں حکومتی فورسز باغیوں کے خلاف ایک لڑائی میں مصروف تھیں۔ واضح رہے کہ شام میں کسی اعلیٰ فوجی افسر کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، تاہم جنرل جامع رواں برس ہلاک ہونے والے اعلیٰ ترین فوجی افسر ہیں۔

شامی میڈیا نے جنرل جامع کی ’خدمات‘ کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ’شام اور شامی عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی خدمت‘ میں مصروف تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جنرل جامع کو ہلاک کرنے کی یہ کارروائی القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ النصرہ فرنٹ کی جانب سے کی گئی۔

دوسری جانب جنرل جامع کے ایک کزن حاتم جامع نے ایک لبنانی ٹی وی چینل سے بات چیت میں کہا کہ جنرل جامع دیرالزور میں سرکاری فوج کی کمان کر رہے تھے کہ ایک بم دھماکے کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق دیرالزور میں حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ گزشتہ ایک برس سے وقفے وقفے سے جاری ہے، تاہم باغی اب بھی اس علاقے کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں۔

شام میں جنرل جامع کی ہلاکت کا واقعہ گزشتہ برس دمشق میں ملکی کابینہ کے ایک اجلاس پر ہونے والے حملے کے بعد سے سب سے اہم نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال جولائی میں ہونے والے اُس حملے میں وزیر دفاع اور نائب وزیر دفاع سمیت چار اعلیٰ حکومتی عہدیدار ہلاک ہو گئے تھے جب کہ واقعے میں ملکی وزیر داخلہ بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سن 2005ء میں جب کئی دہائیوں تک لبنان میں موجود رہنے والی شامی فوج کا انخلاء ہوا تھا، تو جنرل جامع نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اُس وقت جنرل جامع بیروت میں شامی خفیہ ادارے کے سربراہ تھے۔