.

فلسطینیوں کو حماس سے متنفر کرنے کی اسرائیلی سازش

حماس، زیر زمین سرنگوں پر خطیر رقم خرچ کر رہی ہے: اسرائیلی الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے اہالیان غزہ کو اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] سے بدظن کرنے کے لئے جدید مواصلاتی ذرائع کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

پہلے سے ریکارڈ شدہ ٹیلفون پیغامات کے محاصرہ زدہ اہالیاں غزہ کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ 'دہشت گرد' تنظیم حماس کی ہدایات ماننے سے انکار کر دیں۔ ان پیغامات میں شہریوں کو تنظیم سے کسی قسم کا تعلق رکھنے سے بھی اجتناب کی ہدایت کی گئی ہے۔

"آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ حماس، اسرائیل کے خلاف معاندانہ اور دہشت گرد کارروائیوں کے لئے زیر زمین سرنگوں کے منصوبے پر لاکھوں ڈالرز صرف کر رہی ہے۔ اس رقم کو علاقے میں شہری سہولتوں کے بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور صحت کے منصوبوں کو بہتر بنانے میں استعمال ہونا چاہئے۔"

ادھرغزہ میں وزارت داخلہ نے اپنے زیر نگین علاقے میں رہائش پذیر متعدد شہریوں کے موبائل فونز پر اسرائیل کی جانب سے ایسے ریکارڈ شدہ کی وصولی کی تصدیق کی ہے، تاہم اسرائیل نے اس معاملے پر فوری طور پر کسی تبصرے کا اظہار نہیں کیا۔

گذشتہ ہفتے محاصرہ زدہ فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی کو اسرائیلی علاقے کیبوٹس عین ہاشلوشہ سے ملانے والی ایک زیر زمین خفیہ سرنگ کا سراغ لگایا تھا۔

عبرانی روزنامے 'ہارٹز' کے مطابق 15 میٹر گہری سرنگ بارودی مواد سے بھری ہوئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اخبار کے اس دعوے کی کسی دوسرے آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ اخبار کے مطابق ڈھائی کلومیٹر لمبی یہ سرنگ خان یونس اور غزہ کے درمیان موجود ایک گائوں کو اسرائیلی علاقے سے ملاتی ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے حکومتی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ اس سرنگ کا مقصد اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنا یا ان علاقوں پر اندر سے حملے کرنا ہوسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سرنگ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل کے درمیان دریافت ہونے والی سب سے لمبی سرنگ ہے۔

سال 2006ء میں اسلام پسند مزاحمت کاروں کی ایک سات رکنی ٹیم نے ایک ایسی ہی سرنگ کے ذریعے سے اسرائیل سرحدی چوکی پر حملہ آور ہوئے جس میں متعدد فوجی مارے گئے جبکہ جلعاد شالیط نامی اسرائیلی فوجی کو یرغمال بنا لیا تھا۔

جلعاد شالیت کو اغوا کے پانچ سال کے بعد ایک معاہدے کے نتیجے میں رہا کیا گیا تھا جس میں اس کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں سے 1027 فلسطینی اسیران کو رہا کروایا گیا تھا۔ ان اسیران میں یوکرائین، شام اور اردن سے تعلق رکھنے والے اسیر بھی شامل تھے۔