سعودی عرب سلامتی کونسل کی رکنیت مسترد نہ کرے: عرب گروپ

گروپ میں شام کے علاوہ تمام عرب ملک شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں عرب ممالک کے گروپ نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی رکنیت مسترد کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیرمستقل رکنیت یہ کہتے ہوئے مسترد کردی تھی کہ سلامتی کونسل عرب ممالک کے مسائل کے حل میں ناکام رہی ہے۔

یو این میں عرب ممالک کے گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب اقوام متحدہ میں اپنا جرات مندأنہ کردار ادا کرتا رہے اور سلامتی کونسل کی رکنیت کو مشرق وسطیٰ کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرے۔ اقوام متحدہ کے عرب گروپ میں شام کے علاوہ تمام عرب ممالک شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو پانچ غیر مستقل ارکان کا انتخاب کیا تھا اور سعودی عرب کو پہلی بار منتخب کیا گیا تھا۔ لیکن دوسرے روز ہی سعودی عرب نے سلامتی کونسل پر ’دہرے معیار‘ کا الزام لگا کر اس کی غیر مستقل نشست ٹھکرا دی۔

سعودی عرب کے نام ایک مختصر بیان میں عرب ممالک کے سفارتکاروں نے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب اپنا فیصلہ واپس لے تاکہ وہ عرب دنیا اور اسلام سے متعلق مسائل پر اقوامِ متحدہ میں مسلم دنیا کا دفاع کر سکے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے انھیں سعودی عرب کی جانب سے سلامتی کونسل کی نشست مسترد کرنے کے فیصلے کی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

سعودی عرب کی وزارت کا کہنا تھا کہ پہلے اقوامِ متحدہ کی اصلاح ہونی چاہیے۔ اس نے کہا کہ سلامتی کونسل شام اور دنیا کے دوسرے تنازعات میں اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بان کی مون نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا وہ سعودی شاہ سے اس معاملے پر بات کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں