قاہرہ: برطرف صدر مرسی کے حامی طلبہ پر اشک آور گیس کی شیلنگ

جامعہ الازہر کے باہر پولیس اور طلبہ کا ایک دوسرے پر پتھراؤ، 4 گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصری سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین میں جامعہ الازہر کے قریباً پانچ سو طلبہ شامل تھے اور وہ جامع رابعہ العدویہ چوک کی جانب جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے انھیں اشک آور گیس کے گولے چلا کر منتشر کردیا۔طلبہ نے جامعہ الازہر کے داخلی دروازوں کے باہر پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے بھی طلبہ پر جواب میں پتھراؤ کیا ہے۔

ایک پولیس عہدے دار کا کہنا تھا کہ رابعہ اسکوائر کی جانب مظاہرین یا کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔پولیس نے چار طلبہ کو گرفتار کر لیا ہے۔واضح رہے کہ جامعہ الازہر کے طلبہ اپنے کیمپس کی حدود میں ڈاکٹر محمد مرسی کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔انھوں نے جامعہ کی عمارت کی دیواروں پر جنرل السیسی کے پتلے بنا کر آویزاں کررکھے ہیں جن میں انھیں قاتل اورغدار قراردیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں