میدان عرفات میں 70 سالہ تیونسی نابینا خاتون کی بینائی بحال

ڈیڑھ سال قبل فالج سے نابینا ہوئی، دعا سے آنکھوں کا نور واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اٹھارہ ماہ تک مکمل طور پر آنکھوں کے بے نور رہنے کے بعد تیونس کی 70 سالہ خاتون کی بینائی دوران حج عین اس وقت لوٹ آئی جب وہ وقوف عرفات کے لیے میدان عرفات میں موجود تھی۔

دو لڑکوں اور تین لڑکیوں کی ماں نفیسہ القرمزی کا کہنا ہے ''جب میں ادائیگی حج کیلیے سعودی عرب پہنچی تو مکمل طور پر بینائی سے محروم تھی اب حج سے واپس جارہی ہوں تو مکمل بینائی کے ساتھ ہوں۔''

نفیسہ القرمزی کا کہنا ہے ''ڈیڑھ سال قبل فالج کے ایک حملے کے باعث میں مکمل طور پر نابینا ہو گئی تھی، ڈاکٹروں نے بھی نا امیدی ظاہر کر دی تھی کہ اب میری آنکھوں کی روشنی بحال ہو سکتی ہے۔''

تاہم اس پر امید اور اللہ سے اچھی آس رکھنے والی ستر سالہ تیونسی خاتون کا کہنا تھا '' میں ہر گز نا امید نہ تھی، میں ہر وقت اللہ سے دعائیں کرتی رہتی تھی کہ اللہ میری بینائی واپس لوٹا دے ۔''

میدان عرفات پہنچ کر میں نےاللہ سے اوربھی گڑ گڑا کر دعا کی ، مجھے اپنے رب سے امید تھی مایوسی نہیں ،ابھی میدان عرفات میں دعا کر ہی رہی تھی کہ میری بینائی بحال ہونا شروع ہو گئی اور مجھے دکھنا شروع ہو گیا۔''

نفیسہ القرمزی کا کہنا ہے میرے کیمپ میں موجود دیگر حجاج نے مجھ خوشی سے پکار اٹھتے دیکھا کہ میں اپنے رب کا بے ساختہ شکر بجا لارہی تھی اور کہہ رہی تھی اے اللہ میں دیکھ سکتی ہوں، اللہ تو بڑا ہے، اللہ تو ہی سب سے بڑا ہے۔''

جب عرفات کے میدان میں اس نابینا خاتون کو بینائی ملی تو کیمپ میں موجود دوسرے حاجیوں نے بھی نعرہ تکبیر بلند کرنا شروع کر دیا۔ اور ایک غیر معمولی صورت حال پیدا ہو گئی۔

نفیسہ کا کہنا ہے '' جب میں تیونس سے چلی تو میرا ایک ہی خواب تھا کہ میں مقامات مقدسہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں، اللہ نے میرا یہ خواب پورا کر دیا۔'' وہ خوشی سے سر شار تھیں اور کہہ رہی تھیں '' اللہ نے مجھے بینائی مقدس ترین جگہ پر لوٹائی ہے، میں اس کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں