رامی عبدالرحمان: اپنی ذات میں انجمن، ایک خبر رساں ادارہ

برطانیہ سے مغربی میڈیا کو شام کے واقعات سے باخبر رکھنے والی شخصیت کا احوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا نام مغربی میڈیا کے لیے شام کی خبروں کے حوالے سے ایک لازمہ بن چکا ہے۔شام میں روزانہ رونما ہونے والے واقعات اسی تنظِیم اور اس کے سربراہ کے حوالے سے رپورٹ ہوتے ہیں۔

لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ رامی عبدالرحمان ہی دراصل شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا دوسرا نام ہے۔وہ برطانیہ کے ایک چھوٹے شہر کوونٹری میں ایک عام سے گھر میں رہتے ہیں لیکن ان کا اثرونفوذ اس قدر ہے کہ مغربی میڈیا اور نمایاں خبررساں ادارے شام میں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات کی کوئی بھی خبر ان کے یا ان کی تنظیم کے نام کے بغیر جاری نہیں کرتے اور انھیں شامی خبروں کا سب سے مصدقہ ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

بیالیس سالہ رامی عبدالرحمان اپنے گھر ہی میں شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق چلاتے ہیں۔شام کے طول وعرض اور ہر شہر وقصبے میں ان سے وابستہ کارکنان کا ایک جال موجود ہے جو انھیں پل پل کی خبروں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔شام کے کسی علاقے میں بم دھماکا ہوجائے ،سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہوں یا کسی علاقے میں فوج کی بمباری سے شہریوں کی ہلاکتوں ہوں،انھیں فوری طورپران کی اطلاع مل جاتی ہے اور وہ مغربی خبررساں اداروں اے ایف پی ،رائیٹرز ،اے پی وغیرہ کو یہ خبریں جاری کرتے ہیں۔

اوکلاہوما یونیورسٹی کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ مطالعات جوشو لینڈس کا کہنا ہے کہ '' وہ (رامی عبدالرحمان) ہر کہیں موجود ہوتے ہیں۔وہ اعدادوشمار کے لیے اپنے لڑکوں سے رابطے میں ہوتے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ کوئی دوسرا شخص بھی ان کے پائے کا ہوسکتا ہے''۔

رامی عبدالرحمان کا کہنے کو تو اتنا وسیع کام ہے لیکن ان کی گزربسر کا انحصار کپڑے کی ایک دکان پر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آبزرویٹری اپنی معلومات کے لیے چار بے نامی کارکنان پر انحصار کرتی ہے۔ان کے علاوہ مانیٹروں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جو شام بھر میں ہونے والی جھڑپوں اور ان میں ہلاکتوں کی تفصیل کو اکٹھا کرتے اور پھر ان کی تصدیق کرتے ہیں۔

ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ شامی حزب اختلاف کی فورسز سے ملے ہوئے ہیں اور خلیجی عرب ریاستیں انھیں رقوم مہیا کررہی ہیں۔وہ ہلاکتوں کے اعدادوشمار اس طرح بیان کرتے ہیں جس سے باغیوں کو فائدہ پہنچے ہیں۔بعض دوسرے انھیں شامی رجیم کا حامی قراردیتے ہیں۔وہ ان پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے الزامات عاید کرتے ہیں کیونکہ اس طرح شامی صدر بشارالاسد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ہر دوطرف سے ان الزامات پر رامی کا کہنا ہے کہ ''جب آپ پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہوں تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ایک اچھا کام کررہے ہیں''۔

لیکن ان کے ایک معروف نقاد کا کہنا ہے کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک شخص رہ تو کوونٹری میں رہا ہے لیکن وہ شام میں ہر روز بلکہ ہر گھنٹے اور ہر لمحے کی ہلاکتوں کی تفصیل دے رہاہے۔کیلی فورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی اسٹینلاس کے مشرق وسطیٰ سیاسیات کے پروفیسر اسعد ابوخلیل کا کہنا ہے کہ ''کچھ ایسا ضرورہورہا ہے جو بہت ہی مشکوک ہے''۔

مصروف آدمی
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے نمائندے نے جب کوونٹری میں رامی عبدالرحمان سے ملاقات کی تو اس شب وہ صرف چار گھنٹے سوئے تھے ۔وہ باقی تمام وقت کام کرتے رہے تھے اور شام کے سرحدی قصبے اعزاز میں ہونے والی جھڑپوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہے تھے۔وہ رات دو بجے سوئے اور صبح چھے بجے پھر جاگ گئے اور اس عرصے کے دوران ہونے والی پیش رفت کے بارے میں آگہی حاصل کرتے رہے تھے۔

رامی کا کہنا تھا کہ یہ کوئی صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کی ملازمت نہیں ہے بلکہ وہ ساراسارادن شامی کارکنان ،بین الاقوامی صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنان سے ٹیلی فون پر رابطے میں رہتے ہیں اور بعض اوقات تو جب شام میں کوئی اہم واقعہ رونما ہوجاتا ہے تو وہ ایک دن میں پانچ سو تک فون کالز کرتے اور سنتے ہیں۔

شام میں جاری بحران کے حوالے سے خبروں کو منظرعام پر لانے کے بعد رامی عبدالرحمان کے بارے میں شکوک وشبہات سامنے آرہے ہیں۔کیا وہ واقعی ایک خودساختہ جلاوطن شامی ہیں؟ان کی تنظیم کے پیچھے کس کا ہاتھ کارفرما ہے؟کیا وہ بالکل درست معلومات فراہم کرتے ہیں کہ دنیا اس پر انحصار کرسکے؟یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالات سامنے آتے رہے ہیں۔

رامی عبدالرحمان کا اصل نام اسامہ سلیمان ہے۔وہ عرفی نام کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بھی عرب روایت کا حصہ ہے جس میں عرفی نام استعمال کرنا ایک عام بات ہے۔انھوں نے یہ تو اعتراف کیا کہ وہ یورپ کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم سے رقوم وصول کرتے ہیں لیکن اس کا نام بتانے سے گریز کیا اور صرف یہ بتایا کہ وہ 2012ء کے بعد سے اپنے کام کے لیے ایک لاکھ یورو سے بھی کم رقم سالانہ وصول کررہے ہیں۔''ہم حالت جنگ میں ہے اور اس صورت حال میں مکمل طور پر شفاف ہونا بہت ہی مشکل ہے''۔ان کا کہنا تھا۔


رامی عبدالرحمان شام کے ساحلی شہر بانیاس سے تعلق رکھتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے بعد ان کی انسانی حقوق کے کام میں دلچسپی بڑھی۔وہ ؁ 2000ء میں شام سے برطانیہ اٹھ آئے اور لندن سے 160 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع کوونٹری میں قیام پذیر ہوئے۔ان کی کپڑے کی دکان ہے اور اس سے ان کی اور ان کے بیوی بچے کی اچھی گزر بسر ہورہی ہے۔

انھوں نے مئی 2006ء میں شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق قائم کی۔انھوں نے اپنے کام کا یہ اصول وضع کیا کہ ''لکھو ،تصدیق کرو اور شائع کردو''۔ان کا کہنا ہے کہ شام کے دونوں فریق غلط معلومات اور جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور ہمارا کام ''جھوٹ کے سمندر'' سے درست بات کی تلاش ہے۔

شام میں ان کے مخبروں کی تعداد 230 کے لگ بھگ ہے۔ان میں شامی صحافیوں سے لے کر فوجی اسپتالوں کے ملازمین تک شامل ہیں جو انھیں فوج کی ہلاکتوں کی تعداد اور بعض خفیہ کہانیوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ انھیں بہت کم مواقع پر غلط معلومات کی تشہیرکا ذریعہ بننا پڑا ہے اور صرف دو مواقع پر انھوں نے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بیان کردی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ایک کاربم دھماکے کو موٹر سائیکل دھماکا کہہ دیا جاتا ہے لیکن اس طرح کی غلطیوں کی ہم ہمیشہ بعد میں تصحیح کردیتے ہیں۔''ہم انسان ہیں۔ہم سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں لیکن ہمارا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ ہم ان غلطیوں کو دُہرائیں نہیں''۔

خبر کانمایاں ذریعہ
دنیا کے بڑے خبررساں ادارے رامی عبدالرحمان کا شام کی خبر میں حوالہ دیتے ہیں۔یہ امر بھی ان کے درست ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس سمیت تین بڑے خبررساں اداروں کی شام سے متعلق جاری کردہ خبروں کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کا شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی بہ نسبت زیادہ مرتبہ حوالہ دیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں پر قدغنیں لگا رکھی ہیں اور اس صورت حال میں رامی عبدالرحمان ہی شام میں ہلاکتوں سے متعلق سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔حتیٰ کہ اقوام متحدہ نے بھی ان کی بیان کردہ ہلاکتوں کی تعداد پر انحصار کیا ہے۔

انسانی حقوق کی ایک محققہ سلینہ ناصر کا کہنا ہے کہ شام میں حقائق کو چیک کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ بہت کم لوگوں کی شورش زدہ علاقوں تک رسائی ہوتی ہے۔

سلینہ ناصر لندن میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے لیے کام کرتی ہیں اور وہ رامی عبدالرحمان کے ساتھ مل کر بھی شام میں اجتماعی ہلاکتوں کے اعدادوشمار پر کام کرچکی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ''رامی عبدالرحمان بہت محتاط اور بالعموم درست ہوتے ہیں''۔

نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی محققہ لاما فکیہہ نے بھی سلینہ کی اس رائے کی تائید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وسیع تر مفہوم میں ان کی رپورٹنگ ٹھوس ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں