.

اسرائیلی محاصرے کیخلاف سرنگیں واحد مزاحمتی راستہ ہے: حماس

اسرائیل پر مبینہ حملوں میں استعمال ہونیوالی450 میٹر طویل سرنگ کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی حکمراں جماعت حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اسرائیل اور غزہ کے درمیان سرنگوں کو اسرائیلی فوجیوں کے اغوا کا ہتھیار قرار دیتے ہوئے اس عمل کو تیز کرنے کیلیے کہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے حماس الاقصی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "القسام اپنی ذمہ داری نہیں بھولی ہے یہ سرنگیں ہمارے جوانوں نے کھودی ہیں تاکہ غزہ کے اسرائیلی محاصرے کے خاتمے کیلیے اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کیا جا سکے۔"

ابو عبیدہ نے مزید کہا کہ "ہم اسرائیلی قید میں اپنے پیارے اسیروں کی رہائی کیلیے زمینی اور سمندری راستوں کے علاوہ زیرزمین کوششوں کو بھی جاری رکھیں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیلی فوجیوں کا اغوا ہی واحد مزاحمتی راستہ ہے جس سے اسرائیلی قبضے کی کمڑ توڑی جا سکتی ہے۔" گذشتہ اتوار کو اسرائیلی حکام نے دعوی کیا تھا کہ انہیں غزہ سے اپنے علاقے میں 450 میٹر اندر تک آنے والی زیر زمین سرنگ ملی ہے جسے مبینہ طور پر اسرائیل کے خلاف حملوں میں استعمال کیا جانا تھا۔

واضح رہے کہ جون 2006ء میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو سرحدی سرنگ کے ذریعے گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں گیلاد شالیت کو اسرائیلی قید میں موجود 1027 فلسطینی اسیروں کی رہائی کے بدلے ایک معاہدے میں 18 اکتوبر 2011 کو رہا گیا گیا تھا۔

حماس کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے واضح طور پر کہا کہ فلسطینی اور اسرائیلیوں کے درمیان مذاکرات کی بجائے مسلح مزاحمت اب دوبارہ شروع کی جائے۔