.

ایرانی جوہری پروگرام: اسرائیل اور امریکا کے درمیان اختلاف کا آغاز

اسرائیل کا ایران پر دباو بڑھانے کا مطالبہ، امریکی موقف میں نرمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوہری پروگرام پر دنیا کے چھ بڑے ملکوں اور ایران کے درمیان ماہ اکتوبر کے وسط میں دوروز تک جاری رہنے کے بعد اچھے نوٹ پر اختتام پزیر ہونے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور اس کے سب سے اہم سر پرست و اتحادی امریکا کے درمیان اختلاف ابھرنا شروع ہو گیا ہے۔

اسرائیل ایران پر عالمی دباو بڑھانے پر زور دے رہا ہے جبکہ امریکی حکام ایران کے خلاف اقتصادی مشکلات میں کمی لانے کے اشارے دے رہے ہیں۔ مغربی ممالک اور یورپی یونین نے بھی ان مذاکرات کی ابتداء کو خوشگواریت کے ساتھ دیکھا ہے۔

اس وجہ سے اسرائیلی وزیراعظم نے تشویش کا واضح اور دوٹوک اظہار کیا ہے تاکہ 7 نومبر سے شروع ہونے والے ایرانی جوہری مذاکرات کے اگلے دور سے پہلے اپنے اتحادیوں کو ایرانی کی خطرناکیوں سے آگاہ کر سکیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران پر دباو بڑھایا جائے۔ کیونکہ ایران جوہری ہتھیار بنانے میں مصروف ہے اور مذاکرات کے ذریعے ایک کھلواڑ کر رہا ہے تاکہ مغرب کو اقتصادی پابندیوں میں نرمی لانے پر مائل کر سکے۔ دوسری جانب ایران اپنے جوہری پروگرام کو پر امن قرار دیتا ہے۔

نیتن یاہو کے بقول'' ہم نے اس طویل عرصے میں ایران کی جانب سے عمل کی بجائے صرف باتیں ہی سنی ہیں، اس لیے بین الاقوامی دباو لازماً جاری رہنا چاہئیے بلکہ اسے بڑھایا جانا چاہیے۔''

اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق'' جتنا دباو بڑھے گا اتنا ہی ایرانی جوہری پروگرام کے خاتمے کا امکان بڑھے گا۔''

واضح رہے ایرانی جوہری پروگرام کو اسرائیل اپنے وجود کیلیے خطرہ سمجھتا ہے، اسی وجہ سے نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ '' ایران پر دباو بڑھا رہے تاکہ ایران یورینیم کی افزودگی روک دے۔''

امریکا کے ساتھ ایرانی سفارت کاری کی حالیہ سرگرمیوں نے مثبت نتائج دیے ہیں جن کے نتیجے میں نہ صرف امریکی صدر نے حسن روحانی سے فون پر بات کی بلکہ مذاکرات بھی شروع ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کیلیے یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔