.

شام سے متعلق تمام ممالک جنیوا مذاکرات میں شرکت کریں: الابراہیمی

عالمی ایلچی کا بغداد میں عراقی وزیراعظم سے شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی لخضر الابراہیمی نے خانہ جنگی کا شکار ملک میں مفادات رکھنے والے تمام ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ جنیوا میں مجوزہ امن مذاکرات میں شرکت کریں۔

بغداد میں سوموار کو عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اور وزیر خارجہ ہوشیارزیباری سے ملاقات کے بعد عالمی ایلچی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''ان تمام ممالک کو جن کے شامی امور میں مفادات اور اثرونفوذ ہے،انھیں اس اجلاس میں ضرور شرکت کرنی چاہیے''۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا شامی حزب اختلاف کی حمایت کرنے والے ممالک کو بھی جنیوا مذاکرات میں خوش آمدید کہا جائے گا؟

اس موقع پر عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے کہا کہ ''اب ہر کوئی اس بات سے متفق ہے کہ شامی عوام کے مفاد میں شامی بحران کا صرف سیاسی اور پُرامن حل ہی واحد دستیاب آپشن ہے''۔

نیوزکانفرنس سے قبل لخضرالابراہیمی نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے شام کی صورت حال اور مجوزہ جنیوا امن کانفرنس کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔نوری المالکی نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ ''بحران کے فوجی حل کے آپشن کا قریب قریب خاتمہ ہوچکا ہے اور اب بحران کے سیاسی حل تک پہنچنے پر زوردیا جارہا ہے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ''عراق تمام شامیوں اور خطے کے مفاد میں بحران کے سیاسی حل کے ضمن میں الابراہیمی کی کوششوں کی حمایت کو تیار ہے''۔لخضرالابراہیمی جنیوا امن کانفرنس کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔انھوں نے اتوار کو قاہرہ میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی سے ملاقات کی تھی۔وہ عراق کے بعد ایران، قطر ،ترکی اور شام جانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

جنیوا میں دوسری امن کانفرنس بلانے کے لیے نئی سفارتی کوششیں امریکا اور روس کے درمیان 14 ستمبر کو جنیوا ہی میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے معاہدہ طے پانے کے بعد کی جارہی ہیں۔اس معاہدے کی بنیاد پر بعد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کی منظوری دی تھی جس کے تحت آیندہ سال کے وسط تک کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے کنونشن کے تحت شامی ہتھیاروں کو تلف کیا جائے گا۔تاہم شامی حزب اختلاف اس معاہدے کو مسترد کرچکی ہے۔

واضح رہے کہ عراق نے اب تک سرکاری طور پر شامی صدر بشارالاسد یا حزب اختلاف میں سے کسی کی حمایت نہ کرنے اور غیر جانبدار رہنے کا موقف اپنا رکھا ہے لیکن متعدد مواقع پرشام میں جاری خانہ جنگی عراق کی سرحدی حدود تک بھی پہنچ چکی ہے اور عراق شام میں جاری خانہ جنگی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔

امریکا عراق سے ایران سے شام کے لیے آنے والی مال بردار پروازیں روکنے کا مطالبہ کرچکا ہے۔اس کا الزام ہے کہ ان پروازوں میں ایران سے مبینہ طور پر شامی حکومت کے لیے اسلحہ بھِیجا جارہا ہے۔عراق کا کہنا ہے کہ ایران نے شام کے لیے مال بردار پروازیں کم کردی ہیں لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایران سے آنے والی پروازوں پر پابندی نہیں لگا سکتا۔