.

شام:مرداروں کا گوشت کھانے سے پولیو سمیت مہلک امراض پھوٹ پڑے

خانہ جنگی کا شکار ملک میں 14 سال کے بعد پولیو کے کیسوں کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسی ہفتے خانہ جنگی کا شکار شام میں مردہ جانوروں کا گوشت کھانے کے نتیجے میں جلدی السراور پولیو سمیت مختلف وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کی اطلاع دی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے عالمی انسداد پولیو پروگرام سے تعلق رکھنے والے ماہر اولیور روزن باور نے برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو بتایا کہ ''شام کے شمال مشرقی صوبے دیرالزور میں بائیس افراد میں پولیو کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ہمیں ابھی لیبارٹری کی حتمی تصدیق کا انتظار ہے لیکن اب تک کے تمام اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ پولیو ہی ہے''۔

اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ شام میں چودہ سال کے بعد پولیوکے کیس ہوں گے۔اخبار نے لکھا ہے کہ شام میں ٹائیفائیڈ ،ہیپاٹائٹس اور مردہ جانور کا گوشت کھانے سے لاحق ہونے والے جلدی مرض پیراسائٹ لیشمینیاسیس کے کیس سامنے آرہے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ ویکسی نیشن پروگرام پر عمل درآمد نہ ہونا ہے اور دوسرا بڑا سبب لوگوں کا پست معیار زندگی اور حفظان صحت تک رسائی نہ ہونا ہے۔

پولیو ایک وبائی مرض ہے اور یہ گھنٹوں میں اعصابی نظام کو ناکارہ کرکے جسمانی اعضاء کو مفلوج کردیتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ شام کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر پولیو اور دوسرے وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے۔

انسداد پولیو کے عالمی پروگرام کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اس سال اب تک دنیا بھر میں پولیو کے 296 کیس سامنے آئے ہیں۔جب ایک مرتبہ پولیو ہوجائے تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن بچوں کو ابتدائی عمر میں اس سے بچاؤ کے قطرے پلا کر پوری زندگی کے لیے اس مرض سے بچایا جاسکتا ہے۔عالمی ادارے کے ماہر کا کہنا ہے کہ اگر کسی ایک جگہ پولیو ہو تو پھر دنیا بھر کے ممالک اس کے خطرے سے دوچار رہیں گے۔

ڈبلیو ایچ او کے ایک ترجمان طارق جساروچ کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران عالمی ادارے نے شام میں خطرناک وبائی امراض کو پھوٹ پڑنے سے روکنے کے لیے ''ابتدائی اطلاعی اور ردعمل نظام'' قائم کیا ہے۔شام میں حکومت اور اپوزیشن کے کنٹرول والے علاقوں میں 291 کارکنان کام کررہے ہیں۔وہ امراض کی پہلے نشاندہی کرتے ہیں اور پھر ہم ان کی تحقیقات کرتے ہیں۔اس نیٹ ورک نے اب تک شام کے مختلف علاقوں میں ہیپاٹائٹس اے ،لیشمینیاسیس ، ٹائیفائیڈ اور خسرے کے کیسوں کا پتا چلایا ہے۔

شمالی شہر حلب میں جلدی مرض کے سب سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں۔شام کے اس شہر کی گلیاں اور بازار کوڑے کرکٹ اور جانوروں کی غلاظت سے بھرے پڑے ہیں جس کی وجہ سے مکھیوں سے انسانوں میں جلدی امراض لاحق ہورہے ہیں اور وہ پھلبہری کی طرح کے جلدی السر کا شکار ہورہے ہیں۔

شام میں وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کی شکایات منظرعام پر آنے کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی امور کی سربراہ ولیری آموس نے ہفتے کے روز شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں لڑائی روکنے اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے محاصرے کا شکار قصبوں اور دیہات میں فوری طور پر انسانی جان بچانے والی ادویہ اور خوراک مہیا کرنے کا مطالبہ کیاہے۔انھوں نے کہا کہ ضروری ادویہ کی عدم فراہمی کی وجہ سے انسانی جانوں کا غیر ضروری طور پر ضیاع ہورہا ہے اور اس کو روکا جانا چاہیے۔