.

لیبیا: وزیر اعظم کو اغوا نہیں گرفتار کیا گیا تھا: وزارت داخلہ

وزیراعظم پر منشیات اور کرپشن کے مقدمات میں ملوث ہونیکا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان کے تقریبا دس روز قبل چند گھنٹوں کیلیے اغوا کیے جانے کی واردات کی ذمہ داری لیبیا کی وزارت داخلہ کے ایک اہم شعبے کے سربراہ نے نہ صرف قبول کر لی ہے بلکہ اپنی اس کارروائی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی زیدان منشیات رکھنے اور کرپشن کے مقدمات میں قانون کو مطلوب تھے۔

لیبیا کی وزارت داخلہ کے انسداد جرائم کے شعبہ کے سربراہ عبدالمومن السید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا '' ان جرائم میں مبینہ طور پر ملوث وزیر اعظم لیبیا کو قانون سے کوئی استثنا حاصل نہیں ہے، اس لیے یہ میں ہی تھا جس نے علی زیدان کو گرفتار کیا تھا اور مجھے اپنی اس کارروائی پر فخر ہے۔''

دس اکتوبر کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس ایک ہوٹل سے ''گرفتار'' ہونے والے وزیراعظم نے چند گھنٹے بعد رہائی پا لی تھی اور رہا ہوتے ہی اس واقعے کی ذمہ داری ایک سیاسی جماعت پر عائد کی تھی۔ دوسری جانب اسلام پسند جماعت نیشنل کانگریس کے محمد الکیلانی اور مصطفی الطریقی نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

وزیر اعظم علی زیدان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہےاغوا کاروں کے لیڈر کے ساتھ تین دوسرے افراد تھے، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ '' یہ معاملہ عدالت میں ہے۔''

وزیر اعظم کے اغوا کو باضابطہ گرفتاری قرار دینے والے عبدالمومن السید کا دعوی ہے کہ علی زیدان منشیات اور کرپشن کے دو مقدمات میں ملوث ہیں۔ وزارت داخلہ کے اس ذمہ دار کے اس موقف کو سوشل میڈیا پر مضحکہ خیز کہا گیا ہے۔

جبکہ دو اسلام پسند سیاستدانوں کا موقف ہے کہ علی زیدان نے ان پر الزام اس لیے عاید کیا ہ ےتاکہ وہ اپنی حکومتی نا اہلیوں پر پردہ ڈال سکیں۔

علی زیدان نے بھی اتوار کے روز اپنے اس موقف اغوا کاروں نے ان کے استعفے کے لیے دباو ڈالا تھا،'' میں تبدیلی کی ہے۔