اسرائیلی فوج کی رام اللہ میں جارحیت، اسلامی جہاد کا کارکن شہید

صہیونی فوجیوں نے بلعین کے نواح میں فلسطینی کی جائے پناہ غار کو بلڈوز کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے نزدیک واقع ایک گاؤں میں جارحانہ کارروائی کرکے اسلامی جہاد کے ایک کارکن کو گولی کو مار کر شہید کردیا ہے۔

صہیونی فوج کے ایک ترجمان اویشے ادراعی نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:''ایک مطلوب فلسطینی دہشت گرد کو رام اللہ کے نزدیک واقع گاؤں بلعین میں ایک غار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے''۔

اسرائیلی فوجیوں نے منگل کی صبح پانچ بجے کے قریب رام اللہ سے دس کلومیٹر شمال مغرب میں واقع علاقے پر دھاوا بولا تھا۔انھوں نے اسلامی جہاد کے شہید کارکن کا نام محمد عاصی بتایا ہے اور اس پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ گذشتہ سال نومبر میں تل ابیب میں ایک بس میں بم دھماکے میں ملوث تھا۔اس دھماکے میں انتیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوج کے سرکاری ترجمان پیٹر لرنر نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ محمد عاصی گذشتہ سال تل ابیب میں بم دھماکے میں ملوث تھا۔اس ترجمان نے یہ کہانی گھڑی ہے کہ اس نے آج صبح سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کردی اور جوابی فائرنگ میں مارا گیا ہے۔ترجمان نے بم دھماکے میں ملوث دو اور فلسطینیوں کی گرفتاری کی بھی اطلاع دی ہے۔

اسلامی جہاد نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں محمد عاصی کی کفرنیمح کے علاقے میں صہیونی قبضے کے دوران قتل کی اطلاع دی ہے۔اسرائیلی فوجیوں کی بلعین میں جارحانہ چڑھائی کے بعد لڑائی شروع ہوئی تھی۔اس کے بعد وہ کفرنعمہ کے نزدیک واقع ایک غار کی جانب چلے گئے جہاں محمد عاصی نے مبینہ طور پر پناہ لے رکھی تھی۔اسرائیلی فوجیوں نے اس غار کا محاصرہ کرنے کے بعد اس کو بلڈوز کردیا ہے۔

یادرہے کہ گذشتہ سال 21 نومبر کو تل ابیب میں بس بم دھماکے کے ذریعے نزدیک واقع اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔تب اسرائیلی فوج نے غزہ سے راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے فضائی حملے شروع کررکھے تھے۔تاہم بعد میں حماس اور اسرائیل کے درمیان مصر کی ثالثی میں جنگ بندی ہوگئی تھی اور ان راکٹ حملوں اور اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ رک گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں