ترکی میں لازمی فوجی تربیت کی مدت کم کر دی گئی

فیصلہ یکم جنوری سے نافذالعمل، فوری فائدہ 70000 افراد کو ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کی حکومت نے ملک میں طویل عرصے سے عام شہریوں کیلیے لازمی فوجی تربیت کی مدت میں جنوری 2014 سے کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس امر کا اعلان نائب وزیراعظم ترکی نے باضابطہ طور کیا ہے۔

حکومتی فیصلے سے لازمی فوجی تربیت کے قانون کے تحت ان دنوں زیرتربیت ستر ہزار نوجوانوں کی جاری عسکری تربیت کی مدت کم ہو جائے گی اور وہ پہلے سے مقررہ مدت سے پہلے واپس گھروں کو لوٹ کر اپنی تعلیم یا روزگار کو از سر نو جاری کر سکیں گے۔ اس حکومتی فیصلے سے ایک جانب عسکری اخراجات میں کمی آئے گی، تو دوسری جانب ملک کو افرادی قوت کے زیادہ سے زیادہ اور بہتر استعمال کا موقع ملے گا۔

نائب وزیراعظم کے مطابق '' ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ لازمی فوجی تربیت کی مدت 15 ماہ سے کم کر کے 12 ماہ کر دی جائے، اس فیصلے کا اطلاق جنوری 2014 سے ہو گا۔''

اس سے پہلے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کہہ چکے ہیں'' فوج کے ساتھ اس امر پر اتفاق ہے کہ لازمی فوجی تربیت کی مدت کم کی جائے۔''

واضح رہے ترکی کے ہر بیس سالہ شہری کے لیے فوجی تربیت لازمی ہے۔ نیٹو کے ارکان میں ترکی دوسرا بڑا ملک ہے جس کی فوج کی تعداد سب سے زیادہ یعنی ساڑھے بارہ لاکھ ہے۔ ترک فوج میں خواتین کی تعداد پانچ لاکھ ہے۔

ترکی کو 1984 سے اپنے جنوبی حصے میں کرد بغاوت کا سامنا ہے، تاہم مارچ میں ترک باغیوں کے لیڈر نے سیز فائر کا اعلان کر دیا تھا۔ ان دنوں ترک اس باغی لیڈرعبداللہ اوکلان سے بات چیت شروع کیے ہوئے ہے۔ اس بغاوت کے نتیجے میں 45000 افراد مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں