لیبیا کو نیٹو فوجی ماہرین کی مدد مل گئی

ابتدائی کردار مشاورتی ہو گا، فیصلہ بدامنی کے پیش نظر کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے وزیراعظم علی بن زیدان کی مدد کے لیے نیٹو فورسز انتہائی محدود تعداد میں لیبیا آئیں گی تاکہ معمر قذافی کے بعد مسلسل جاری انتشار پر قابو پایا جا سکے۔ نیٹو اس سلسلے میں بنیادی کردار مشاورتی ہو گا اور نیٹو کے جنگی لیبیا کی حکومت کی مدد کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق دس اکتوبر کو اپنی ہی وزارت داخلہ کے ہاتھوں مبینہ طور پر گرفتار ہونے والے وزیراعظم علی بن زیدان نے لیبیا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر نیٹو پر زور دیا تھا کہ ان کی مدد کی جائے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان کی اس درخواست کو کرنل قذافی کے بعد کے لیبیا کے دوست مغربی ممالک نے قبول کر لیا ہے، ابتدائی طور پر نیٹو ماہرین کا کردار مشاورتی ہو گا، تاہم بعد میں اگر ضرورت پڑی تو اس میں باہمی مشورے سے تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔

اس بارے میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسین کا کہنا ہے کہ نیٹو نے لیبیا کی مدد کیلیے عسکری ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹیم دس ماہرین سے زیادہ نہیں ہو گی۔ واضح رہے لیبیا کی طرف سے نیٹو کی مدد کی درخواست ماہ مئی میں کی گئی تھی، تاہم علی زیدان کی حالیہ مبینہ گرفتاری کے بعد اس کی شدت سے ضرورت محسوس کی جانے لگی تھی۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیبیا کے معاملات پر مشورہ دینے والی نیٹو ٹیم لیبیا کے بجائے برسلز سے ہی آپریٹ کرے گی۔ لیبیا جس کے مرد آہن اور چالیس برس تک حکمران رہنے والے معمر قذافی کے دو سال قبل قتل کے بعد ملک مسلسل بدامنی کا شکار ہے۔ ان دنوں زیادہ مشکل میں ہے۔ لیبیا کی سکیورٹی فورسز امن و امان کی صوت حال بہتر کرنے کی کوشش میں ہیں، لیکن نتائج بہتر نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں