مصر:اخوانیوں کی ہلاکت میں ملوث 4 پولیس افسروں کی گرفتاری کا حکم

پولیس افسروں پرفرائض سے غفلت اوراخوان کے کارکنان کواشک آور گیس سے مارنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے ایک پراسیکیوٹر نے اگست میں اخوان المسلمون کے اڑتیس کارکنان کی دوران حراست تشدد سے ہلاکت کے الزام میں چار پولیس افسروں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

اخوان کے کارکنان ایک پولیس وین میں اشک آور گیس کے نتیجے میں دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگئے تھے۔تب مصر کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ قیدیوں نے تھانے سے جیل منتقلی کے دوران پولیس وین سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی اور انھوں نے ایک پولیس افسر کو بھی یرغمال بنالیا تھا۔

لیکن اب استغاثہ کی تحقیقات نے وزارت داخلہ کے اس صریح جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ ''استغاثہ اس واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے بعد سے اس کی تحقیقات کررہا تھا اور اس نے تین سیشنز میں واقعے میں ملوث سات پولیس اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی تھی''۔

آج (منگل کو) استغاثہ نے چار سنئیر پولیس افسروں کو چار روز کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے اور تین جونئیر افسروں کو رہا کردیا ہے۔ان چاروں پر فرائض سے غفلت برتنے اور زیرحراست افراد کی ہلاکت کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

مصر کے سرکاری روزنامے الاہرام کی اطلاع کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر ہشام برکات نے چار پولیس افسروں کو ان کے خلاف ہلاکتوں کے الزامات کی مزید تحقیقات تک جیل میں قید رکھنے کا حکم دیا ہے۔

اخبار اور ایک سکیورٹی ذریعے کے مطابق اس واقعے میں کل انچاس قیدی ہلاک ہوئے تھے۔اخوان المسلمون نے مصری حکام پر جولائی میں مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران دیدہ دلیری سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

مصر کی موجودہ حکومت ان الزامات سے انکار کرتی ہے۔وہ الٹا اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردیتی ہے اور ملک کی سب سے منظم جماعت پرریاست کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا الزام عاید کررہی ہے۔

واضح رہے کہ برطرف صدر کے حامیوں اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے کارکنان کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اخوان ان ہلاکتوں کی تعداد دوہزار سے زیادہ بتاتی ہے۔مصری سکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں دوہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان کے خلاف اب مختلف الزامات کے تحت عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں