میرے صدارتی امیدوار ہونے کی راہ میں کوئی امر مانع نہیں: بشار الاسد

امن مذاکرات پر شامی صدر کے شدید تحفظات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام کے صدر بشار الاسد نے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک روزہ بین الاقوامی امن کانفرنس کے انعقاد پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'فی الوقت ایسے عوامل نظر نہیں آتے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔'

بشار الاسد نے کہا کہ وہ سن 2014 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں شرکت کے بارے میں سوچ سکتے ہیں کیونکہ شامی صدر کے بقول 'میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ میرے صدارتی امیدوار بننے کی راہ میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔'

صدارتی انتخاب کے لئے سازگار وقت کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے بشار الاسد نے کہا کہ دو چیزیں اس کا تعین کریں گی۔ پہلی بات ان کی ذاتی خواہش اور دوسرے نمبر پر عوامی دلچسپی۔ جہاں تک پہلی بات کا سوال ہے تو میں پیش آئندہ صدارتی انتخاب میں اپنے امیدوار بننے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھتا۔

جہاں تک عوامی رائے کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بارے میں بات کرنا فی الحال قبل از وقت ہے۔ عوامی دلچسپی کا تعین اسی وقت ممکن ہو گا جب صدارتی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

روس اور امریکا کئی ماہ سے اس کوشش میں ہیں کہ شامی بحران کے سیاسی حل کی خاطر جنیوا میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ممکن ہو سکے۔ شام میں گزشتہ دو برس سے جاری سیاسی انتشار کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو ملین سے زائد بے گھر۔ اس ابتر صورتحال میں بہتری کے لیے اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے جنیوا ٹو نامی کانفرنس کے انعقاد کے لیے وسط نومبر کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم دمشق اور شامی اپوزیشن دونوں ہی اس بارے میں شک کا شکار ہیں، اس لیے اس حوالے سے ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں ہو سکی ہے۔

شامی صدر بشار الاسد نے لبنانی ٹیلی وژن 'المیادین' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی امن کانفرنس کی کامیابی کا دارومدار جن عوامل پر ہو سکتا ہے، وہ ابھی تک موجود نہیں ہیں۔ اسد کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ ان مذاکرات میں اپوزیشن کی طرف سے کون نمائندگی کرے گا اور اگر کوئی وفد اس کانفرنس میں شریک ہوتا بھی ہے تو یہ دیکھنا ہو گا کہ شام کے اندر اس کی کیا ساکھ ہے۔

بشار الاسد نے مزید کہا: ’’اس کانفرنس کے بارے میں بہت سے سوالات تشنہ طلب ہیں۔‘‘ اسد حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں ان کے خلاف لڑنے والے باغی دراصل مغربی اور عرب ممالک کے ایجنٹس ہیں۔ اس حوالے سے دلائل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’ وہ کون سے گروپ ہیں، جو امن کانفرنس میں شرکت کریں گے؟ ان کا شامی عوام کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ کیا وہ شامی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں یا صرف ایسے ملک کی، جس نے انہیں بنایا ہے؟‘‘

اسد نے دہرایا کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ کسی مسلح دھڑے سے بات چیت نہیں کی جائے گی۔ اپنے اس انٹرویو میں انہوں نے شامی بحران کے لیے سعودی عرب، قطر اور ترکی پر الزام دھرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک باغیوں کی مدد کر رہے ہیں۔ اسد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کے آئندہ صدارتی انتخابات میں ان کی شرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ شامی اپوزیشن کے متعدد گروہ اسد کو اقتدار سے الگ کرنے کے خواہاں ہیں۔

دوسری طرف شام کی منقسم اپوزیشن نے بھی ابھی فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ ’جنیوا ٹو کانفرنس‘ میں شریک ہو گی یا نہیں۔ شامی اپوزیشن کا مغرب نواز نمائندہ گروپ ’سیریئن نیشنل کولیشن‘ یکم اور دو نومبر کو ترک شہر استنبول میں ایک ملاقات کر رہا ہے، جہاں اس مجوزہ کانفرنس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ سیریئن نیشنل کولیشن کا ایک اہم دھڑا صد بشار الاسد کے ساتھ مذاکرات کرنے پر یقین نہیں رکھتا ہے، اس لیے اس نے کہہ دیا ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک نہیں ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں