نوبل انعام سے شامی صدر کے جرائم کی پردہ پوشی کی گئی: ولید جنبلاط

شام میں مغوی لبنانیوں کی بازیابی کےلیے مساعی جاری رکھنے کاعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کی سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ اور دروز قبیلے کے سردار ولید جنبلاط نے عالمی امن نوبل انعام کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے سرگرم تنظیم کو دیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوبل انعام کے حقدار کا تعین کرنے میں عالمی برادری نے "منافقت" کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کو عالمی ایوارڈ دے کر شام کے صدر بشار الاسد کے جنگی جرائم کی پردہ پوشی کی گئی اور مظالم کو جواز فراہم کیا گیا ہے۔

لبنانی اخبار"الانباء" کے مطابق ولید جنبلاط نے ایک بیان میں کہا کہ کیمیائی اسلحے کو ختم کرنے والی تنظیم کو امن نوبل انعام سے نوازنے کا کوئی جوازنہیں۔ یہ چناو عالمی برادری کی غیرمعمولی منافقت کا مظہر ہے۔ اس اقدام سے بشارالاسد کو اپنےعوام کے خلاف مظالم جاری رکھنے کا مزید حوصلہ ملے گا اور ان کے جرائم کی پردہ پوشی ہوگی۔

لبنان کے معروف اشتراکی رہ نما کا مزید کہنا تھا کہ "نوبل انعام" کا بانی خود بھی "ڈائنامیٹ" جیسے تباہ کن مواد کا موجود تھا، اس نے اپنے بعض گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے نوبل انعام معارف کرایا۔ میں پوچھتا ہوں کہ بشارالاسد کی وفادار فوجوں نے ٹینکوں، جنگی جہازوں اور توپوں سے کی گئی بمباری اور ڈائنا میٹ مواد کے ذریعے کتنے ہی بے گناہ بچوں کے ہاتھ اور گردنیں اڑائیں۔ کیا مرنے والے تمام لوگ کیمیائی حملے کانشانہ بنے تھے؟۔

ولید جنبلاط نے استفسار کیا کہ کیا کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی ہی تین سالہ بغاوت کی تحریک کا پرامن حل ہے اور کیا اب بحران ختم کردیا گیا اور بشارالاسد کی فوج سے آلہ قتل چھین لیا گیا ہے۔ لبنانی سیاست دان نے شام میں یرغمال اپنے شہریوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ شام میں لاپتہ لبنانی شہریوں تک رسائی میں مشکلات درپیش ہیں تاہم وہ کئی اطراف سے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

شام کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کی مسلسل حراست پر ولید جنبلاط نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ ابھی تک شکوک وشبہات کا شکار ہے۔ شام میں حکومتی جیلوں میں قید خواتین کو فوری رہا ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ان ہزاروں افراد کی تلاش بھی جاری رکھیں گے جو اندرون ملک ھجرت کے دوران لاپتا ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں