.

اسرائیلی قبضہ دنیا کے امن کیلیے بڑا خطرہ ہے: سعودی عرب

شامی رجیم کے گاروں کا ''جنیوا ٹو'' میں کردار نہیں ہونا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیرعبداللہ المعلمی نے اسرائیل کی طرف سے یومیہ بنیادوں پر فلسطینیوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود اقوام متحدہ اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے حوالے سے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ہے۔

اقوام متحدہ میں مشرق وسطی کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے عبداللہ المعلمی کا کہنا تھا '' اسرائیل فلسطینی سرزمین پر موجود مقدس مقامات کو جارحیت کا نشانہ بناتا ہے۔''

سعودی سفیر نے اسرائیلی قبضے کو پوری دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے، شام کے خلاف فوری کارروائی کو بھی ضروری کہا۔ سعودی سفیر کا کہنا تھا '' شامی رجیم کو مزید ظلم کیلیے وقت دینا خطرناک ہو گا۔''

شامی رجیم کی مدد کرنے والے ممالک کا نام لیے بغیر انہیں عبداللہ المعلمی نے شامی عوام کے قتل میں حصہ دار قرار دیا اور کہا ایسے عناصر کا شام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں کردار نہیں ہونا چاہیے۔'' انہوں نے اس موقع پر ''جنیوا ٹو'' کے نام سے ہونے والی امن کانفرنس میں ان ملکوں کی امکانی شمولیت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

جبکہ امریکا اس بارے میں ایران کی شمولیت کے امکان کو کلی طور پر رد نہیں کرتا ہے کیونکہ امریکا شام میں عبوری حکومت کے لیے اس کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا موقف ہے کہ ''ایران کو ضرور شام کی عبوری حکومت کی حمایت کرنا چاہیے۔''