اسرائیلی قبضہ دنیا کے امن کیلیے بڑا خطرہ ہے: سعودی عرب

شامی رجیم کے گاروں کا ''جنیوا ٹو'' میں کردار نہیں ہونا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیرعبداللہ المعلمی نے اسرائیل کی طرف سے یومیہ بنیادوں پر فلسطینیوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود اقوام متحدہ اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے حوالے سے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ہے۔

اقوام متحدہ میں مشرق وسطی کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے عبداللہ المعلمی کا کہنا تھا '' اسرائیل فلسطینی سرزمین پر موجود مقدس مقامات کو جارحیت کا نشانہ بناتا ہے۔''

سعودی سفیر نے اسرائیلی قبضے کو پوری دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے، شام کے خلاف فوری کارروائی کو بھی ضروری کہا۔ سعودی سفیر کا کہنا تھا '' شامی رجیم کو مزید ظلم کیلیے وقت دینا خطرناک ہو گا۔''

شامی رجیم کی مدد کرنے والے ممالک کا نام لیے بغیر انہیں عبداللہ المعلمی نے شامی عوام کے قتل میں حصہ دار قرار دیا اور کہا ایسے عناصر کا شام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں کردار نہیں ہونا چاہیے۔'' انہوں نے اس موقع پر ''جنیوا ٹو'' کے نام سے ہونے والی امن کانفرنس میں ان ملکوں کی امکانی شمولیت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

جبکہ امریکا اس بارے میں ایران کی شمولیت کے امکان کو کلی طور پر رد نہیں کرتا ہے کیونکہ امریکا شام میں عبوری حکومت کے لیے اس کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا موقف ہے کہ ''ایران کو ضرور شام کی عبوری حکومت کی حمایت کرنا چاہیے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size