.

عراق: صوبہ الانبار میں خودکش بم دھماکے، فائرنگ، 28 افراد ہلاک

مسلح جنگجوؤں کے الرطبہ اور رمادی میں پولیس چیک پوائنٹس اور تھانوں پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں مسلح جنگجوؤں کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور انھوں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران پے درپے خود کش بم حملوں اور فائرنگ میں پچیس پولیس اہلکاروں اور تین شہریوں کو ہلاک کردیا ہے۔

عراقی پولیس حکام کی اطلاع کے مطابق مزاحمت کاروں نے رات دس بجے سے آدھی شب کے درمیانی وقت میں یہ نئے حملے کیے تھے۔الانبار اور عراق کے دوسرے علاقوں میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو عراقی سکیورٹی فورسز اور دوسرے سرکاری ملازمین پر آئے دن حملے کرتے رہتے ہیں۔

جنگجوؤں نے خانہ جنگی کا شکار ملک شام کی سرحد سے ایک دس کلومیٹر دور واقع عراقی شہر الرطبہ اور اس کے آس پاس چارحملے کیے ہیں۔شہر کے مشرق میں واقع وفاقی پولیس کے ایک چیک پوائنٹ پر خودکش بمبار نے بارود سے بھرے ٹینکر ٹرک کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس کے بعد الرطبہ شہر میں بھاری ہتھیاروں سے مسلح جنگجوؤں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کردیا۔

ایک اور بمبار نے الرطبہ شہر کے مغرب میں اپنی بارود سے بھری گاڑی دھماکے سے اڑا دی۔ ان حملوں میں اٹھارہ پولیس اہلکار ہلاک اور پچیس زخمی ہوگئے۔ایک اور خودکش بمبار نے شہر کے مغرب میں واقع ایک پل پر بارود سے لدے ٹینکر کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے تین شہری مارے گئے۔

الانبار کے صوبائی دارالحکومت رمادی میں رات دس بجے کے قریب مسلح افراد نے شہر کے ایک داخلی راستے میں پولیس کے ایک پوائنٹ پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔رمادی ہی میں ایک اور چیک پوائنٹ پر حملے میں چار پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔

اے ایف پی کے سکیورٹی اور میڈیکل ذرائع کے حوالے سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اکتوبر میں اب تک عراق میں بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں 520 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ رواں سال کے آغاز سے اب تک 5200 سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔

امریکا،کینیڈا اور عراق سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم نے اسی ماہ جنگ زدہ ملک میں ہلاکتوں سے متعلق اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ عراق میں 2003ء میں امریکا کی قیادت میں فوجی چڑھائی کے بعد سے جنگ سے متعلق اسباب کے نتیجے میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ افراد مارے جاچکے ہیں۔