.

مصر: اگلا صدر فوجی یا سویلین،ادارے اہم یا شخصیات؟

واشنگٹن پوسٹ کی تجزیہ نگار نے ہر سوچ کا احاطہ کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اخوان المسلمون کی قیادت کو جیل بھج کر مظاہرین سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے والے اور منتخب صدر مرسی کو اقتدار سے الگ کرنے کی بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے والے مصر کے فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر منصب صدارت پر فائز کرنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن صدارتی منصب پر سویلین شخصیت کو دیکھنے والوں کا موقف ہے کہ مصر کواب اداروں کی ضرورت ہے شخصیات کی نہیں۔

جنرل سیسی نے بھی یہ کہہ کر اہل مصر کو حیران کر دیا ہے کہ 'ابھی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے کے سوال کا جواب دینے کا وقت نہیں آیا ہے۔'' جبکہ جنرل سیسی کے حامی اب تک ایسی کئی مہمات کا آغاز کر چکے ہیں جن کا مقصد جنرل سیسی کو منصب صدارت سنبھالنے پر قائل کرنا ہے۔

مصر میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو یہ سمجھتے ہیں 2011 میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے جاری سیاسی بحران کی صورت حال میں ایک فوجی سربراہ کا صدر ہونا زیادہ موزوں فیصلہ ہو سکتا ہے۔ قاہرہ میں واشنگٹن پوسٹ کی بیورو چیف نے ان تمام امور کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔

اس جائزے میں جنرل سیسی کا مصر کے سابق فوجی سربراہ جمال عبدالناصر سے تقابل بھی کیا گیا ہے کہ جنرل سیسی کو بھی اسی طرح کے عوامی نغموں اور نظموں کا موضوع بنایا جا رہا ہے جس طرح جمال عبدالناصر کو بنایا جاتا تھا۔

اسی طرح واشنگٹن پوسٹ کی بیوروچیف نے جنرل سیسی کا صدر بننے سے ہچکچانے کا بھی حوالہ دیا ہے اس کے بقول سیاستدان اقتدار اور اختیار سنبھالنے کے غیر معمولی شائق ہوتے ہیں۔

جنرل سیسی کو حاصل ایک فوقیت یہ بھی بتائی ہے کہ سابق صدارتی امیدوار حامدین ا لصباحی نے بھی دوٹوک انداز میں جنرل سیسی کی صدارت منصب کیلے حمایت کر دی ہے۔ حامدین الصباحی کے مطابق'' اگر جنرل سیسی امیدوار ہوئے تو میں ان کی حمایت کروں گا کیونکہ انقلاب کی نمائیندگی ایک ہی صدارتی امیدوار سے ہونی چاہیے۔''

الصباحی کے بقول مصر کے سابقہ صدارتی انتخاب کے دوران یہی غلطی ہوئی تھی کہ انقلابی اور لبرل ووٹ تقسیم ہو گئے تھے۔ اس لیے یہ غلطی اب دہرائی نہیں جانی چاہیے۔ واضح رہے سابقہ صدارتی انتخاب میں اخوان المسلمون کے محمد مرسی جیت گئے تھے۔

اس خاتون تجزیہ نگار کے خیال میں الصباحی نے بھی یہ فیصلہ جنرل سیسی کی عوام میں ابھرتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر ہی کیا ہے۔ جس کا امیدوار ہونے کی صورت الصباحی کو بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی وجہ سے الصباحی نے یہ بھی کہنا ہے کہ '' فوجی سربراہ کو عوام میں ایک ہیرو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر جنرل سیسی نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینا چاہا تو اس میں شک نہیں کہ عوام سیسی کا ہی انتخاب کریں گے۔''

دوسری جانب مرسی کی مخالف تمرد تحریک نے بھی جنرل سیسی کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی صورت میں حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

تمرد تحریک کے شریک بانی محمد بدر کا کہنا ہے کہ '' جنرل عبدالفتاح السیسی کا فوجی پس منظر ایک غیر متعلق بات ہے وہ سیاسی پلیٹ فارم سے ہی صدر منتخب ہوں گے۔'' بدر کے مطابق ''جنرل سیسی کی حیثیت فرانس کے جنرل ڈیگال جیسی ہو گی کہ جنرل ڈیگال کو فوج سے تعلق کے باوجود انہیں فرانس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔''

اس کھلی حمایت کے علاوہ مصر میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو جنرل سیسی کے ٘مخالف نہیں لیکن صدارت پر کسی فوجی کے بجائے سویلین کو دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ایک سویلین صدر ہی جمہوریت کے سفر کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

ایک سوچ یہ بھی ہے کہ سیسی کے صدر بننے سے مصر میں دوبارہ حسنی مبارک کا دور ہی لوٹ آئے گا۔ جارج اسحاق ایک متحرک سیاسی کارکن ہے وہ سیسی کا بھی مخالف نہیں، لیکن سیسی کے صدارتی انتخاب لڑنے کے حق میں نہیں ہے۔ جارج کے مطابق'' اہل مصر کو ادارے بنانے کی ضرورت ہے شخصیات کی نہیں ۔''

آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ کہ مصر کا حکمران کون ہو گا اس کا فیصلہ کرنے میں ایک اہم کردار زخم خوردہ اخوان کے حامیوں کا بھی ہو گا جو اب جامعہ الازہر کے اندر بھی متحرک ہیں۔