تیونس کی اپوزیشن جماعتوں کی بھرپور احتجاج کی تیاری

نئے دستور کے نفاذ سے پہلے حکومت نہیں چھوڑوں گا: وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

تیونس کی اپوزیشن جماعت سالویشن فرنٹ نے اسلام پسندوں کی حکومت کے فوری خاتمے کا مطالبہ منوانے کیلیے احتجاجی تحریک کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

''العربیہ'' کی رپورٹس کے مطابق سالویشن فرنٹ ان دنوں وزیراعظم کی حالیہ تقریر کا ایک غیر معمولی احتجاج کی صورت میں بھر پور جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔

اس بھرپور احتجاج میں بائیں بازو کے ہزاروں کارکنوں کے علاوہ مزدور تنظیموں کے ارکان بھی بڑی تعداد میں شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ اسلام پسند حکومت اور سیکولر اپوزیشن کے درمیان قومی مکالمہ اختلافات کی وجہ سے ہے تاہم اسلام پسند حکومت اور تیونس کے بڑی لیبر یونین سے متعلق گروپ کو امید مزاکرات جمعہ کے روز سے دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔

اپوزیشن ان مذاکرات کے حوالے سے حکومت سے واضح یقین دہانی چاہتی ہے کہ وزیراعظم تین ہفتوں کے اندر اندر حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کریں۔ جبکہ وزیر اعظم کا موقف ہے کہ وہ صرف اسی وقت حکومت چھوڑیں گے جب ملک کا نیا دستور مکمل ہو جائے گا۔

تاہم ثالثی کرانے والوں کا خیال ہے کہ دو طرفہ اعتماد بحال ہو جائے گا اور مذاکرات کے نتیجے میں بہتری آ جائے گی۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں اپوزیشن کے دو رہنماوں کے قتل سے شروع ہونے والی بدامنی کا خاتمہ ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں