جامعہ الازہر: مرسی کی حمایت اور فوج کی مخالفت میں مظاہرے

طلبہ کے مظاہرے روکنے کیلیے نیا قانون بنانے کی تیاری شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے معزول کیے گئے منتخب صدر محمد مرسی کی بحالی کیلیے مصر کی سب سے بڑی جامعہ الازہر میں طلبہ و طالبات کے مظاہرے چوتھے روز بھی جاری رہے ہیں۔ الازہر کے ہزاروں طلبہ مرسی کے حق میں اور فوج کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

بظاہر ان مظاہروں کی وجہ محض مرسی کی حمایت ہے لیکن فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی بحث تیز ہونے اور فوجی حکام کی طرف سے سیسی کو صدر بننے کا مشورہ دینے کے ماحول میں مصر کی اس دانشگاہ الازہر یونیورسٹی میں فوج کے خلاف نعرے ایک اہم واقعہ ہیں۔

مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے چوتھے روز بھی جامعہ الازہر میں درس و تدریس کو زبردستی روکتے رہے۔ جس کے بعد جامعہ میں پولیس داخل ہونے اور طلبہ پر تشدد کرنے سے یونیورسٹی طلبہ کی معقول تعداد زخمی ہو گئی۔

جامعہ کے طلبہ کا ایک دھڑا جو خود کو فوجی انقلاب کا مخالف قرار دیتا ہے مظاہرین کی قیادت کر رہا ہے۔

المنصورہ یونیورسٹی کے صدر سید عبدالخالق نے جامعہ کی انضباطی کمیٹی کو ہدایت کی ہے 25 اساتذہ اور طلبہ کیخلاف کارروائی کی جائے۔ جو مبینہ طور پر فوج کے اقتدار پر تنقید کر رہے ہیں۔

مصر میں اعلی تعلیم کے وزیر حسام عیسی خالد عبدالخالق نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں ان طلبہ پر الزام عاید کیا ہے کہ یہ لوگ ریاست کو منتشر کرنا چاہتے ہیں۔

قانون کی تعلیم کے ایک شعبے کے سربراہ پروفیسر اشہور عبدالجواد کا اس صورت حال کے بارے میں کہنا تھا '' مظاہرے کرنے والے طلبہ تعلیمی سلسلہ روک کر اخوان کا ایجنڈا آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔''

ان کا کہنا تھا '' پرامن احتجاج جائز ہے لیکن جس سے کسی شہری کی زندگی متاثر نہ ہوتی ہو۔ جہاں تک ان مظاہرے کرنے والے طلبہ کا تعلق ہے یہ صرف اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔''

طلبہ کے ان مظاہروں کے بعد مظاہروں پر پابندی عاید کرنے کے لیے ایک نئے مسودہ قانون کی تیاری کی بحث شروع ہو گئی ہے۔ جس کے تحت اجتماع اور تقریر کے بنیادی حقوق پر قدغن لگائی جا سکتی ہے، تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی بنیادی حقوق کے معاملات کو مصر میں دیکھ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں