.

اسرائیل کا ایران کے مسئلے پرامریکا سے اختلافات کا اعتراف

"تہران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا مشترکہ ہدف ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیر برائے اسٹریٹیجیک امور یووال اشٹائنٹر نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تل ابیب کے امریکا کے ساتھ اختلافات ہیں۔ تاہم یہ اختلافات معمولی نوعیت کے ہیں جنہیں با آسانی دور کیا جاسکتا ہے۔

عبرانی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرنے کہا کہ "امریکا اور اسرائیل کا ایران کے بارے میں مشترکہ ہدف تہران کو جوہری بم بنانے سے روکنا ہے، لیکن اس معاملے میں دونوں دوست ملکوں کے درمیان معمولی نوعیت کے اختلافات موجود ہیں" تاہم انہوںنے ان معمولی اختلافات کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

اسرائیلی وزیر نے کہا کہ تل ابیب کسی صورت میں بھی تہران پرعائدعالمی پابندیوں میں نرمی کا حامی نہیں ہے۔ پابندیاں نہ صرف برقرار رہنی چاہئیں بلکہ ان میں مزید سختی کی جانی چاہیے تاکہ تہران جوہری اسلحے کے حصول کے دوڑ سے باز آ جائے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایران سول مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حصول میں کامیاب ہو گیا تو اسرائیل کا ردعمل کیا ہوگا؟ تو انہوں نے کہا کہ عبرانی ریاست ایران کی سول ایٹمی ٹیکنالوجی کو قبول کر لے گی بشرطیکہ تہران ایٹم بم کی تیاری کے لیے یورنیم خریداری اور افرزودگی کا عمل مستقل طورپر بند کر دے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر کا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تازہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اورامریکی وزیرخارجہ جان کیری پچھلے ہفتے روم میں ایک طویل ملاقات میں بھی اس معاملے پر بحث کرچکےہیں۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جان کیری سے ملاقات کے دوران نیتن یاھو نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران پرعالمی اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے نتیجے میں تہران جوہری پروگرام پر کام تیز کر سکتا ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے اخبار"یروشلم پوسٹ" کے زیراہتمام ایک سیمینار سےخطاب میں ایران میں عوامی انقلاب کی تحریک کا عندیہ دیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی صدرنے کہا کہ رواں سال ایران میں صدارتی انتخابات کے دوران عوام نے حسن روحانی کو اس لیے ووٹ نہیں دیے کہ وہ ایک اصلاح پسند رہ نما ہیں بلکہ انہیں ان کی دانشمندی اور نسبتا کم انتہا پسندی کی صفت کی وجہ سے ووٹ ملےہیں۔ اگر صدر حسن روحانی بھی عوامی توقعات پر پورا نہ اترے تو بغاوت نوشتہ دیوار دکھائی دیتی ہے۔