.

امریکی طیارہ بردار شام کے ساحلوں سے واپسی کیلے تیار

کیمیاِئی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد'' نمیٹز'' نے شام کیطرف رش کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد شام میں امریکی کارروائی کا پیدا ہونے والاامکان تھا اب بظاہر موجود نہیں ہے۔ کیمیائی ہتھیارون کے استعمال کے بعد اپنا رستہ بدل کر شام کے قرب میں آکر رکنے والا نمیٹز ایک دہشت کی علامت ہے ۔

شام میں امریکی کاروائِ کا امکان کم ہونے کے بعد پہلے مرحلے پر امریکا نے اپنے اس انتہائی خرچیلے طیارہ بردار جہاز'' نمیٹز '' کا اپنے اتحادیوں کی تربیت کیلیے استعمال شروع کیا اور اب اس کو شام کے قربی ساحلوں سے واپس بلانے کی تیاری ہے۔

امریکی بحریہ اس نوعیت کے دس طیارہ بردار رکھتی ہے جن میں سے ہر ایک کی عمومی قیمت ساڑھے چار ارب ڈالر ہے۔تاہم ان کی مخصوص صلاحیتوں میں اضافے سے قیمت دوگنا تک ہو سکتی ہے۔

امریکی بحریہ کے ذرائع کے مطابق اس طاقتور ترین طیارہ بردار کے روز مرہ کے اخراجات بھی غیر معمولی ہیں۔ایک ہفتے کے دوران صرف معمول کے آپریشنز پر 25 ملین ڈالر اخراجات اٹھتے ہیں اور اس پر موجود طیاروں کی جنگی ضروریات کیلیے پرواز بھرنے کے دوران یہ اخراجات ایک ہفتے کے دوران 40 ملین ڈالر ہو جاتے ہیں۔

'' العربیہ '' نے اس طیارہ بردار بحری بیڑے کی عمومی سر گرمیوں سے متعلق اپنے ناظرین کی دلچسپی کیلیے اس کے ورچویلز حا صل کیے ہیں۔

شام میں کسی کارروائی کے بغیر واپس جانے کیلیے کھلے سمندروں میں اترنے کیلیے تیار امریکی ''نمیٹش'' کے یہ ورچوِیلز دلچسپ اور معلومات افزا ہیں۔