.

سیکڑوں مظاہرین کی ہلاکت پر استعفا دینا جرم نہیں: مصری عدالت

عبوری حکومت کے سابق نائب صدرالبرداعی کیخلاف مقدمہ خارج کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی عدالت نے سابق عبوری نائب صدر البرادعی کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کو خارج کر دیا ہے جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے عبوری حکومت اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

البرادعی نے عبوری حکومت میں نائب صدارت کا منصب سنبھالنے کے کچھ ہی روز بعد 14 اگست کو مصری سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں معزول صدر مرسی کے سینکڑوں حامیوں کی کریک ڈاون میں ہلاکت پر استعفا دے دیا تھا اور کہا تھا وہ سکیورٹی فورسز کے اس بہیمانہ استعمال کے فیصلے میں شریک تھے اور نہ ہی اس کی صفائی پیش کرنے کو تیار ہیں۔

قاہرہ میں قائم مصری عدالت نے اس حوالے سے محمد البرادعی کیخلاف کیس خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ''جس بنیاد پے مقدمہ بنایا گیا ہے، وہ کافی نہیں ہے۔''

واضح رہے اس مقدمے میں ڈاکٹر مرسی کے مخالف اور قانون کے مصری استاد پروفیسر سید العتیق مدعی بنے تھے کیونکہ ان کے خیال میں محمد البرادعی کے استعفا دینے سے معزول صدر مرسی کو فائدہ جبکہ عبوری حکومت کے اس اعتماد کو دھچکا لگا جو اس نے البرادعی پر کیا تھا۔

دوسری جانب عبوری وزیر داخلہ نے سکیورٹی فورسز کے مظاہرین کے خلاف اس خونی کریک ڈاون پر ان کے لیے 35 ملین ڈالر کے خصوصی الاونس کا اعلان کیا تھا۔