.

شام میں النصرہ فرنٹ کا رہنما ابو محمد الجولانی 'ہلاک'

محاذ نے اپنے رہنما کی ہلاکت کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق صدر اسد کے خلاف لڑنے والے باغی گروپوں میں دہشت گرد گروہ القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کا سربراہ مارا گیا ہے۔ النصرہ نے اس خبر کی تردید کی ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی وژن نے جمعہ کی شام بتایا کہ النصرہ فرنٹ کا سربراہ ابو محمد الجولانی جمعے کو ساحلی صوبے لاذقیہ میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوا۔ بعدازاں اس ٹی وی نے بغیر کسی وضاحت کے یہ رپورٹ اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دی۔

خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق الجولانی کی ہلاکت کے بارے میں حکومتی دعوے کی تصدیق ہو گئی تو یہ باغی فورسز کے لیے بڑا دھچکا ہو گا، جو ایک عرصے سے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کم از کم ایک باغی کمانڈر نے اس خبر کی تردید کی ہے۔

برطانیہ میں قائم شام کے حالات پر نظر رکھنے والے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق لاذقیہ میں النصرہ فرنٹ کے رہنماؤں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے الجولانی کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق النصرہ کے دیگر ذرائع کا کہنا ہے الجولانی سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی جا سکتی۔ اے پی نے دمشق کے نواح میں باغیوں کے ایک کمانڈر سے رابطہ کیا، جس نے یقین ظاہر کیا کہ الجولانی ’زندہ‘ ہے۔

اس نے یہ بات اپنے ذرائع کے حوالے سے بتائی۔ تاہم اس نے زیادہ تفصیل فراہم نہیں کیں اور سکیورٹی وجوہات کی بناء پر اپنی شناخت ظاہر کرنے سے بھی انکار کیا۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب باغی دھڑے پھوٹ کا شکار ہیں اور انہیں لڑائی میں بھاری نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعے کو ہی دمشق کے ایک نواحی علاقے میں فوج نے کم ازکم 40 باغیوں کو ہلاک کر دیا جن میں النصرہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔

دارالحکومت دمشق کے مشرقی نواحی علاقوں میں بھی اسد کی فورسز نے باغیوں کے ایک سپلائی رُوٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کارروائی میں حکومتی فورسز کو لبنان کی ح‍زب اللہ کی حمایت حاصل تھی۔

النصرہ فرنٹ کو باغی گروپوں میں سب سے مؤثر خیال کیا جاتا ہے۔ یہ گروہ حکومتی اہداف کے خلاف متعدد خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے القاعدہ سے تعلق کی بنیاد پر اس گروہ کو دہشت گرد تنظیموں کی اپنی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔