.

مصری وزیر پر خودکش حملے میں سابق فوجی افسر ملوث؟

'انصار یروشلم' کی جاری ویڈیو میں اخوان پر تنقید، القاعدہ کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج کا سابق افسر خود کش بمبار بننے کے بعد مبینہ طور پر مصر کے عبوری وزیر داخلہ کو ہدف بنانے کی کارروائی میں شریک ہوگیا، تاہم کارروائی ناکام رہی۔ اس امر انکشاف القاعدہ سے منسلک ایک مقامی گروپ کی جانب سے جاری کردہ ایک وڈیو ٹیپ میں کیا گیا ہے۔

فوج نے 'انصار یروشلم' نامی عسکری گروپ کے حوالے سے سامنے آنے والی اس وڈیو ٹیپ اور اس میں ایک سابق فوجی افسر کی موجودگی کے دعوے پر کسی تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔

واضح رہے 'انصار یروشلم' کے نام سے کارروائیاں کرنے والا یہ گروپ مصری سرحدی علاقے جزیرہ نما سیناء میں بھی سرگرم رہ چکا ہے۔ اس سے پہلے پولیس کے ایک افسر کو مبینہ طور پر اسلام پسند گروپوں کے ساتھ رابطوں کے الزام میں ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے۔

عسکری گروپ کی ویب سائٹ پر دکھائی گئی وڈیو میں ایک شخص جس کا نام ولید بدر بتایا گیا ہے، اس نے مصری فوج کے میجر کی یونیفارم پہن رکھی ہے۔ وڈیو میں فوٹیج میں ولید بدر کہہ رہا ہے''مصری فوج مذہب کے خلاف لڑتی اور امریکا سے محبت کرتی ہے۔''

ایک غیر مسلح شخص نے بولتے ہوئے کہا ''حکام نے بدر کو فوج سے نکال دیا، جس نے 1991 میں فوجی اکیڈمی سے گریجوایشن کی تھی۔'' بدر کے بارے میں اسی وڈیو میں بتایا گیا وہ اس سے پہلے افغانستان اور شام میں لڑ چکا ہے جبکہ عراق میں بھی لڑنے کیلے جا رہا تھا کہ ایران میں گرفتار کر لیا گیا۔''

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وڈیو میں ایک گاڑی دکھائی گئی ہے جو عبوری وزیر داخلہ محمد ابراہیم کے گھر کے قریب ہے۔ نیز وزیر داخلہ کے ساتھ چلنے والے گاڑیوں کے قافلے کو دکھایا گیا ہے۔ تاہم وڈیو میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس موقع پر کی گئی کارروائی کیوں ناکام رہی اور بارود نہ پھٹ سکا۔

واضح رہے گزشتہ ماہ 5 ستمبر کو وزیر داخلہ پر کیے گئے حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا اور 22 افراد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کی ذمہ داری بھی سیناء میں سرگرم ایک گروپ نے قبول کی تھی۔

'انصار یروشلم' نامی گروپ گذشتہ ہفتے فوجی انٹیلی جنس کے دفتر پر نہر سویز سے ملحقہ شہر اسماعیلیہ میں ایک خودکش کار بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس گروپ نے متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے۔

اس وڈیو کی اہم بات یہ ہے کہ ولید بدر نے اخوان المسلمون سمیت تمام ان اسلامی جماعتوں پر سخت تنقید کی ہے جو جمہوریت پر یقین رکھتی ہیں اور انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ ولید بدر نے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری اور ان کے طریقہ کار کی تعریف کی ہے۔