بشارالاسد کے کارندوں نے طرابلس کو جہنم زار بنا دیا: سعد حریری

شہرمیں تازہ جھڑپوں کے دوران آٹھ افراد ہلاک، 50 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے ملک کے شورش زدہ شمالی شہر طرابلس کی تازہ سیکیورٹی صورت حال پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے وہاں پر ہونے والی جھڑپوں میں شامی صدر بشارالاسد کو قصور وار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے کارندوں اور ایجنٹوں نے لبنان کے پُرامن شہرطرابلس جہنم زار بنا رکھا ہے۔

اپنے ایک بیان میں مسٹر حریری نے کہا کہ "شام کی جنگ دراصل ایک گندگی ہے جسے اب ہمارے ملک میں پھیلانے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے۔ اس گندگی کو پھیلانے میں شامی صدر بشارالاسد اوران کے مقامی ایجنٹ ملوث ہیں"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنان کے سابق وزیراعظم نے یہ بیان طرابلس میں ایک روز قبل ہونے والی جھڑپوں کے تناظر میں دیا ہے۔ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب شہرمیں متحاب گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ کشیدگی کے بعد شہری پبلک پارکوں میں پناہ حاصل کرنے پرمجبور ہیں۔ مقامی آبادی نے لبنانی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگجوؤں کے خلاف موثر کارروائی کرے اور شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنائے۔

ہفتے کے روز بیروت میں سیکیورٹی حکام کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں طربلس کے سنی اکثریتی علاقے باب التبانہ اور اہل تشیع کے علوی اکثریتی مقام جبل محسن میں سیکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافے کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔

واضح رہے کہ طرابلس میں اہل سنت مسلک کے پیروکارشامی باغیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں جبکہ شیعہ مسلک کے علوی افراد کی ہمدریاں بشارالاسد کے ساتھ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شام کی جنگ کے باعث لبنان کے اس شہرمیں بھی کئی ماہ سے جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

ادھرلبنان کی مستعفی حکومت کے وزیراعظم نجیب میقاتی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی ادارے طرابلس میں امن وامان کی بحالی کے لیے اپنے تمام اختیارات کا بھرپوراستعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ طرابلس کا امن بحال کرنے کے لیے جوکچھ ضروری ہوا وہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ ان کا اشارہ متحارب گروپوں کے خلاف طاقت کی استعمال کی جانب تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں