.

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی لخضرالابراہیمی کی دمشق آمد

شامی حکام سے جنیوا کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے مشترکہ خصوصی ایلچی لخضرالابراہیمی اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کے اگلے مرحلے میں دمشق پہنچ گئے ہیں۔وہ جنیوا میں شام سے متعلق دوسری امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے راہ ہموار کرنے کی غرض سے خطے کے ملکوں کے دورے پر ہیں۔

وہ ایران کے دو روزہ دورے کے بعد سوموار کو تہران سے بذریعہ پرواز بیروت پہنچے تھے اور وہاں سے شامی دارالحکومت آئے ہیں جہاں ان کا نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے استقبال کیا۔انھوں نے تہران میں ایرانی عہدے داروں سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ایران کی جنیوا امن بات چیت میں شرکت ضروری ہے۔اب وہ شامی حکام سے جنیوا کانفرنس کے حوالے سے تبادلہ خیال کرنے والے تھے۔

روس اورامریکا شام میں گذشتہ ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے جاری بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے صدر بشارالاسد کی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان امن مذاکرات پر زوردے رہے ہیں مگر ان مذاکرات کے ایجنڈے پر اختلاف رائے کی وجہ سے ان کے انعقاد میں تاخیر ہوتی چلی آرہی ہے۔

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف برسر پیکار مسلح باغی جنگجو گروپوں نے جنیوا مذاکرات کی مخالفت کردی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں صدر بشارالاسد کی رخصتی نہیں ہوتی ہے تو پھر یہ لاحاصل ہی رہیں گے۔انھوں نے اس مجوزہ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو خطرناک نتائج کی دھمکی دی ہے۔

روس نے ان گروپوں کی دھمکی کو اشتعال انگیز قراردیا ہے۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ بہت ہی شرمناک بات ہے کہ اب شام میں سرکاری فورسز کے خلاف لڑنے والی بعض انتہا پسند دہشت گرد تنظیموں نے دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ''ان دھمکیوں کا ہدف وہ لوگ تھے جو امریکا ،روس اورپوری دنیا کی حمایت سے جنیوا میں منعقد ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں''۔

شام میں فوج کے خلاف میدان جنگ میں محاذ آراء اسلامی جنگجوؤں کے بائیس گروپوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ''بحران کے کسی بھی حل کی صورت میں اگر بشارالاسد کی حکمرانی کا خاتمہ نہیں ہوتا تو پھر اس حل کو مکمل طور پر مسترد کردیا جائے گا''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''ہم مذکورہ بالا وجوہ کے سوا کسی بھی بنیاد پر جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت کو غداری تصور کرتے ہیں اور ان مذاکرات میں شرکت کرنے والوں کے خلاف ہماری عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا''۔

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کی قیادت میں جنیوا کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے اختلافات دور نہیں ہوسکے ہیں اور حزب اختلاف کا قومی اتحاد اس حوالے سے 9 نومبر کو رائے شماری کے ذریعے کوئی فیصلہ کرے گا۔اس اتحاد کے صدر احمد جربا نے بھی اگلے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر بشارالاسد اقتدار نہیں چھوڑتے اوروہ اپنی جیلوں سے خواتین اور بچوں کو رہا نہیں کرتے تو جنیوا میں مذاکرات شرکت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اس مجوزہ امن کانفرنس کی تاریخوں کے حوالے سے ابھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔اگلے روز عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے کہا تھا کہ جنیوا امن کانفرنس 23 نومبر کو منعقد ہوگی لیکن امریکا ،روس اور اقوام متحدہ نے اس تاریخ سے اتفاق نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی باضابطہ طور پر اس کانفرنس کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔