.

شام:باغی گروپوں نے جنیوا امن مذاکرات کی مخالفت کردی

بشارالاسد کی مع لاؤ لشکر رخصتی نہیں ہوتی تو مجوزہ کانفرنس لاحاصل رہے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف برسر پیکار مسلح باغی جنگجو گروپوں نے جنیوا میں مجوزہ امن مذاکرات کی مخالفت کردی ہے۔ان گروپوں کا کہنا ہے کہ اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں صدر بشارالاسد کی رخصتی نہیں ہوتی ہے تو پھر یہ لاحاصل ہی رہیں گے۔

ان گروپوں نے اس بیان میں کہا ہے کہ ''بحران کے کسی بھی حل کی صورت میں اگر بشارالاسد کی حکمرانی کا بشمول فوجی اور سکیورٹی ستونوں کے خاتمہ نہیں ہوتا تو پھر اس حل کو مکمل طور پر مسترد کردیا جائے گا''۔

اس بیان پر ہفتے کی تاریخ لکھی ہوئی ہے اور اس پر شامی فوج کے خلاف میدان جنگ میں محاذ آراء اسلامی جنگجوؤں کے بائیس یونٹوں کے دستخط ہیں۔اس میں کہا گیا ہے کہ ''ہم مذکورہ بالا وجوہ کے سوا کسی بھی بنیاد پر جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت کو غداری تصور کرتے ہیں اور ان مذاکرات میں شرکت کرنے والوں کے خلاف ہماری عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا''۔

اس انتباہی اعلامیے پر دستخط کرنے والوں میں سقرالشام التوحید اوراحفاد الرسول نامی گروپ بھی شامل ہیں۔ان دونوں کی مبینہ طور پر قطر پشتی بانی کررہا ہے۔ان کے علاوہ شام کے مشرقی علاقے میں برسرپیکار احرارالشام بریگیڈ اور دمشق کے نواح میں بروئے کار الصحابہ بریگیڈز شامل ہیں۔

باغی جنگجو گروپوں کا یہ بیان شام کی سیاسی حزب اختلاف پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش بھی ہے۔واضح رہے کہ بعض بڑے باغی گروپ شامی حزب اختلاف کی جلا وطن سیاسی قیادت کو تو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے ہیں۔شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے بھی ابھی تک جنیوا امن مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ بشارالاسد اگر اقتدار سے چمٹے رہتے ہیں اور ان کی رخصتی کے لیے کوئی ٹھوس وعدہ نہیں کیا جاتا ہے تو پھر اس مجوزہ امن کانفرنس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

جنیوا میں منعقد ہونے والی اس مجوزہ دوسری امن کانفرنس کی تاریخوں کے حوالے سے ابھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔اگلے روز عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے کہا تھا کہ جنیوا امن کانفرنس 23 نومبر کو منعقد ہوگی لیکن امریکا ،روس اور اقوام متحدہ نے اس تاریخ سے اتفاق نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی باضابطہ طور پر اس کانفرنس کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی لخضرالابراہیمی بھی اس امر کی تردید کرچکے ہیں کہ جنیوا کانفرنس کے لیے کوئی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''شامی حزب اختلاف کی موثر نمائندگی کے بغیر یہ کانفرنس نہیں بلائی جاسکتی ہے''۔

لیکن شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کی قیادت میں جنیوا کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے اختلافات دور نہیں ہوسکے ہیں اور حزب اختلاف کا قومی اتحاد اس حوالے سے 9 نومبر کو رائے شماری کے ذریعے کوئی فیصلہ کرے گا۔