.

فلسطینیوں کی رہائی 'دردناک'، مگر وعدے پورے کریں گے: نیتن یاھو

اسیران کی رہائی کے جلو میں یہودی آبادکاری میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے شدت پسند جماعت "جیوش ہوم" کے تمام تر دباؤ کے باجود دوسرے مرحلے میں مزید 26 فلسطینی اسیران کو رہا کر دیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے بدلے اسرائیل نے تین ماہ قبل سنہ 1993ء میں طے پائے اوسلو معاہدے سے قبل حراست میں لیے گئے 104 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں تیس فلسطینیوں کو رہا کیا گیا جبکہ دوسرا مرحلہ گذشتہ روز مکمل ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں فلسطینی اسیران کی رہائی کے خلاف سرگرم اراکین نے دھواں دھار تقاریر کی گئیں اور وزیراعظم پر اسیران کی رہائی روکنے کے لیے دباؤ ڈالا مگر بنجمن نیتن یاھو نے تمام تر دباؤ کے باوجود جذبہ خیرسگالی کے تحت مزید 26 فلسطینی اسیران کی رہائی کی منظوری دے دی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اگرچہ ایک دردناک معاملہ ہے اور ایسا کرتے ہوئے ہم بہت سے لوگوں کو دکھی کر رہے ہیں مگر ہمیں اپنے وعدوں کا بھی لحاظ رکھنا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق گذشتہ ہفتے روم میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے درمیان ملاقات میں بھی فلسطینیوں کی رہائی کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔ نیتن یاھو نے امریکی وزیرخارجہ کو بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ فلسطینی اسیران کی رہائی کے وعدے پر قائم ہیں۔

ادھر اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ وزیراعظم نیتن یاھو نے فلسطینیوں کی رہائی کے ساتھ ہی مشرقی بیت المقدس میں مزید 1700 مکانات کی تعمیر کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ مکانات مشرقی بیت المقدس میں قائم "رمات شلومو" کالونی میں تعمیر کیے جائیں گے۔

مبصرین کے خیال میں وزیراعظم نیتن یاھو کی جانب سے بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید کئی سو مکانات کی تعمیر کا اعلان کابینہ میں شامل شدت پسندوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدام "جیوش ہوم" جیسی سخت جماعتوں کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی مخالفت پرحکومت کی طرف سے ایک تسلی ہے، جس کا مقصد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے مخالف حلقوں کو مطمئن کرنا ہے۔

درایں اثناء فلسطینی وزیر برائے اموراسیران عیسیٰ قراقع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علم میں ایسا کوئی معاہدہ نہیں جس میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے ساتھ ہی مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاری بھی شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اشتعال انگیز اقدامات کے ذریعے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے اور اپنی مرضی سے اسیران کے معاملے کو یہودی آبادکاری سے جوڑ رہا ہے۔

فلسطینی وزیر کا کہنا تھا کہ اسیران کی رہائی کا امن مذاکرات کی بحالی سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک سو چار فلسطینیوں کی رہائی کا فیصلہ اسرائیلی حکومت نے اپنی مرضی سے کیا تھا۔