.

قاہرہ:مرسی کے حامی مظاہرین پراشک آور گیس کی شیلنگ

جامعہ الازہر اور دوسری جامعات کے طلبہ کا برطرف صدر کے حق میں احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس نے برطرف صدر محمد مرسی کے حق میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے فائر کیے ہیں۔

مظاہرین نے تاریخی دانش گاہ جامعہ الازہر کے کیمپس کے باہر مارچ کیا اور ایک مرکزی شاہراہ کو بلاک کردیا۔انھوں نے مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی کو منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

پولیس نے طلبہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے علاوہ ہواِئی فائرنگ بھی کی۔تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

جامعہ الازہر اور دوسری جامعات کے طلبہ کی اکثریت محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اورانھوں نے گذشتہ ہفتے بھی مصری فوج اور اس کے تحت عبوری حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔اس دوران ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

مصری سکیورٹی فورسز نے برطرف صدر کو کسی نامعلوم مقام پر قید کررکھا ہے۔ان کے خلاف آیندہ ماہ کے اوائل میں دسمبر2012ء میں صدارتی محل کے باہر حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ان کے ہزاروں حامی ان پرمقدمہ چلائے جانے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ برطرف صدر کے حامیوں اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے کارکنان کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اخوان ان ہلاکتوں کی تعداد دوہزار سے زیادہ بتاتی ہے۔مصری سکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں دوہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان کے خلاف اب مختلف الزامات کے تحت عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔