ایران اور فلسطین امن مذاکرات پر اوباما سے نیتن یاہو کی ملاقات

تہران محض چند ہفتوں جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے: اسرائیلی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر اوباما سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی ایرانی جوہری پروگرام اور ایران کےنئے سفارتی رابطوں پر ایک ماہ کے دوران دوسری ملاقات ہوئی ہے۔

ملاقات میں بنجمن نیتن یاہو نے اپنے ان خدشات کو دہرایا ہے کہ ایران افزودہ کیے گئے یورینیم کومحض چند ہفتوں کے اندر جوہری ہتھیار سازی کیلیے بروئے کارلا سکتاہے۔

ملاقات کے بعد وائٹ ہاوس سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے اسرائیل، فلسطین مذاکرات اور دوسرے اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر کو خبر دار کیا کہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے دعوے قابل بھروسہ نہیں ہو سکتے۔

اس سے محض ایک روز قبل نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں کہا تھا ''ضروری ہے کہ ایران کو میسر ہونے والی اس ٹیکنالوجی پر نظر رکھی جائے جس کے تحت ایران یورینیم کی افزودگی کو تین اعشاریہ پانچ فیصد سے نوے فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔''

نیتن یاہو امریکا کو اس جانب مسلسل متوجہ کر رہے ہیں اور امریکا کو ایران کے خلاف دباو بڑھانے کیلیے کہہ رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے ایرانی صدر حسن روحانی کی حالیہ سفارتی کوششوں کو دلفریب جارحیت قرار دے چکے ہیں۔

جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے بطور خاص ملاقات کر کے ایران کیلیے امکانی نرمی کا راستہ روکنے کی کوشش کی اور اب ایک ماہ کے اندر ان کی اوباما سے یہ دوسری ملاقات تھی۔

ایران سفارتکار ان دنوں یورپپی ممالک، جوہری معاملات سے متعلق عالمی کے ذمہ داروں اور چھ بڑے ملکوں کے سفارتکاروں سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں تاکہ ایرانی جوہری پروگرام پر سات نومبر سےشروع ہونے والے جنیوا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنایا جا سکے۔

درایں اثناء امریکی وزیر خارجہ نے تحفیف اسلحہ سے متعلق ایک فورم میں کہا ہے امریکا سفارتی راستے کو آزمانا چاہتا ہے تاکہ دیکھ سکے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو واقعی پر امن مقاصد کے تحت رکحنا چاہتا ہے یا اس کے ارادے کچھ اور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں