جہاد کے علمبردار اپنی اولاد کو جہاد سے روک رہے ہیں: سعودی مفتی اعظم

"ریاست کی اجازت کے بغیر جہاد پرجانے والوں کا احتساب کیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے مفتی اعظم اور ممتازعالم دین الشیخ عبدالعزیزآل الشیخ نے مختلف ملکوں میں جہاد کے لیے مہمات چلانے والے مذہبی لیڈروں کے دوغلے پن پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسروں کے بچوں کو ورغلا کر جہاد پر لے جانے والے اپنے بیٹوں کو میدان جہاد میں جانے سے منع کرتے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ 'جہاد کے نام نہاد علم بردار نوجوانوں کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک جہاد صرف دوسرے لوگوں کے بچوں پر فرض ہے جبکہ ان کی اپنی اولاد اس سے مستثنیٰ ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کے ایک جہادی لیڈر نے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں سے شام میں جہاد کے لیے جانے کی اپیل کی تھی۔ موصوف خود حال ہی میں یورپ میں سالانہ تعطیلات گذار کر آئے ہیں۔ اس سے قبل ایک دوسرے رہ نما نے عراق میں جہاد کی کال دی تھی۔ اس اپیل کے بعد ان کا بیٹا عراق جہاد پر چلا گیا تو انہوں نے حکومت سے اپیل کی وہ ان کے بیٹے کی واپسی کے لیے اقدامات کریں۔

سعودی عرب کے ایک اور جہادی رہ نما نے شام میں جہاد کو فرض قرار دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے اپنے فرزند شام میں جہاد کے لیے کیوں نہیں جاتے تو ان کا جواب تھا کہ وہ فنڈز اکھٹا کرنے کا جہاد کر رہے ہیں۔ ایک اور عرب عالم دین نے مصرمیں اخوان المسلمون کے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ رابعہ العدویہ گراؤنڈ میں ڈٹے رہیں۔ ان کے اپنے بچے امریکا میں ہیں جبکہ وہ مختلف ملکوں میں مغرب اور امریکا پرتنقید کے لیکچر دیتے ہیں۔

سعودی عرب کے عالم دین ڈاکٹر احمد الغامدی نے "العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفتی اعظم نے جہادی ملاؤں کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ بالکل درست ہے۔ یہ لوگ دوسروں کو مخاطب کرتے ہیں لیکن خود کوبھول جاتے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے"۔

ڈاکٹرالغامدی نے کہا کہ جہاد کے نام نہاد علمبردار تین قسم کے ہیں، سازشی ذہن رکھنے والے، مخصوص ایجنڈے پرکام کرنے والے اور اندھے مقلد جو خود کچھ بھی نہیں جانتے۔

ایک سوال کے جواب میں علامہ الغامدی نے کہا کہ جہاد ولی الامر [حکمران یا سرپرست] اور ریاست کی اجازت ہی سے جائز ہے۔ جو لوگ اپنی مرضی سے جہاد پرجاتے ہیں۔ حکومت کو ان کا کڑا احتساب کرنا چاہیے کیونکہ وہ جہاد نہیں کر رہے ہیں بلکہ معاشرے میں فساد اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں