مصر" جج کا اخوان کے سربراہ کیخلاف مقدمہ سننے سے انکار

مرشد عام، ان دنوں قتل کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کی سب بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے زیر حراست مرشد عام محمد بدیع کے خلاف مصری عدالت کے ایک جج نے مقمہ سننے سے معذرت کر لی ہے۔ تین رکنی عدالت مرشد عام اور ان کے دو نائبین خیرت الشاطر اور راشدا لبیومی کے خلاف مقدمہ کی سماعت کا آغاز کرنے والی ہے۔

مرشد عام جن کا اپنا جواں سال بیٹا بھی ان کی گرفتاری سے محض دو روز قبل مصری سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہو گیا تھا۔ عبوری حکومت کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد آج کل قتل کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

واضح رہے 14 اگست کو کریک ڈاون میں محمد بدیع کےعلاوہ اخوان کے بعض دیگر رہنماوں کے بچے، بچیاں اور عزیز و اقارب بھی جاں بحق ہو گئے تھے۔ اخوان کے مرکزی قائدین کے علاوہ معزول صدر بھی ایسے ہی الزامات کی زد میں ہیں۔

مصری عدالت نے محمد بدیع کے خلاف مقدمہ سننے سے معذرت کرنے سے پہلے یہ حکم بھی دیا کہ ملزمان کو زیر حراست رکھا جائے۔

واضح رہے عبوری حکومت کی طرف سے بنائے گئے قتل کے مقدمہ میں محمد بدیع کے ساتھ مجموعی طور پر دیگر 34 رہنماوں اور کارکنوں کو شریک ملزم ٹھہرایا گیا ہے، تاہم منگل کے روز ان میں سے کسی بھی ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں