اسرائیلی جیلوں سے 26 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیےتیاریاں مکمل

فلسطینی قیدی 19 سال سے زیادہ عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں بند تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے طے شدہ ڈیل کے تحت طویل عرصے سے جیلوں میں قید چھبیس فلسطینیوں کی رہائی کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور انھیں آج (منگل کو) جیلوں سے رہا کیا جارہا ہے۔

مذکورہ ڈیل کے تحت اسرائیل کل ایک سو چار فلسطینی قیدیوں کو جیلوں سے رہا کرے گا۔اسرائیلی حکومت کے اییک بیان کے مطابق یہ تمام فلسطینی قیدی انیس سال سے زیادہ کا عرصہ جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ان تمام کو ؁ 1993ء میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز سے قبل جیلوں میں ڈالا گیا تھا۔

صہیونی حکومت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ رہا کیے جانے والے اکیس قیدیوں کا تعلق غرب اردن اور پانچ کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے۔انھیں رہا کرکے ان کے علاقوں کی جانب بھیجا جارہا ہے۔

ان فلسطینی قیدیوں میں محمد نصر بھی شامل ہیں جو 29 سال تک اسرائیلی جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے ہیں۔ان کا خاندان اب ان کی رہائی پر جشن منانے کی تیاریاں کررہا ہے۔

ان کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ''میں ایک نئی زندگی کے لیے تیار ہوں اور یہ سوچ رہی ہوں کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہیں جو انتیس سال ہم سے دوررہا ہے''۔انھوں نے کہا کہ جب اسرائیلیوں نے میرے خاوند کو گرفتار کیا تو اس وقت وہ جوان تھا۔اب وہ ساٹھ سال کا بوڑھا ہوکر جیل سے باہر آرہا ہے''۔

اسرائیلی حکومت فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے اڑتالیس گھنٹے قبل ان کے ناموں کی ایک فہرست شائع کرنے کی پابند ہے تاکہ متاثرہ اسرائیلی خاندان ان کی رہائی کے خلاف اپیل کا اپنا حق استعمال کرسکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں