دہشت گردوں کی امداد روکیں، پھر مذاکرات کامیاب ہوں گے: بشارالاسد

دہشت گردوں کے پشتی بان ممالک پر دباؤ ڈالا جائے: عالمی ایلچی سے ملاقات میں مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ (جنیوا میں مجوزہ) امن بات چیت کی کامیابی دہشت گرد گروپوں کی امداد روکنے سے مشروط ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بدھ کو ان کا یہ بیان نشر کیا ہے کہ ''بحران کے کسی بھی سیاسی حل کی کامیابی دہشت گرد گروپوں کی امداد روکنے اور ان کی پشتی بان ریاستوں پر دباؤ ڈالنے سے جڑی ہوئی ہے''۔

شامی صدر سے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی لخضرالابراہیمی نے ملاقات کی ہے اور ان سے جنیوا میں مجوزہ امن کانفرنس کے انعقاد اور اس میں شامی حکومت کی شرکت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ فوری طوریہ واضح نہیں ہوا کہ انھوں نے مذکورہ بیان لخضر الابراہیمی سے گفتگو کرتے ہوئے جاری کیا ہے۔گذشتہ سال دسمبر کے بعد ان کی عالمی ایلچی سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

درایں اثناء لخضر الابراہیمی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب شامی بحران کے خاتمے کے لیے مجوزہ امن بات چیت میں شرکت کرے گا۔ان کی خاتون ترجمان خولہ مطر نے بیان میں کہا کہ ''الابراہیمی نے سعودی عرب کے شام میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ممکنہ کردار کا خیرمقدم کیا ہے۔

عالمی ایلچی اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کے اگلے مرحلے میں گذشتہ روز دمشق پہنچے تھے۔ وہ جنیوا میں شام سے متعلق دوسری امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے راہ ہموار کرنے کی غرض سے خطے کے ملکوں کے دورے پر ہیں۔ اس سے پہلے وہ مصر ،ایران اور عراق کا دورہ کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں