دیگرعورتوں کی طرح "خاتون خانہ" جیسی زندگی گذارتی ہوں: ملکہ رانیہ

فلسطینی بچوں کی تعلیم مذاکرات سے مشروط نہیں ہونی چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کی خاتون اول ملکہ رانیہ عبداللہ نے "العربیہ" ٹی وی کو دیے گئے اپنے مفصل انٹرویو میں کہا ہے کہ میرا طرز زندگی ایک عام خاتون خانہ ہی کی طرح ہے۔ میں ایک گھریلو خاتون کی طرح اپنے بچوں کی دیکھ بحال اوران کی تعلیم وتربیت پر توجہ دیتی ہوں اور گھرکا نظام سنھبالتی ہوں۔ انہوں نے فلسطینی بچوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی نونہالوں کی تعلیم کو سیاسی مذاکرات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں ملکہ رانیہ کا کہنا تھا کہ گھر میں رہتے ہوئے میں اپنے بچوں کی رہ نمائی کے ساتھ ساتھ انہیں ہرممکن آزادی بھی فراہم کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گھرمیں رہتے ہوئے میں ایک اچھی خاتون خانہ کی خدمات انجام دیتی ہوں۔ گھر کا ماحول پرسکون رکھنے کی ہرممکن کوشش کرتی ہوں تاکہ میرے شوہرنامدار اور مملکت کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم گھر کے معاملے میں کسی قسم کا بوجھ محسوس نہ کریں۔

جب ان سے پوچھا گیا کیا آپ سیاسی معاملات میں بھی کوئی دلچسپی رکھتی ہیں؟ توان کا کہنا تھا کہ "ہاں میں اپنے شوہر کو سیاسی امورمیں بھی مشورہ دیتی ہوں۔ وہ میری بات غور سے سنتے ہیں مگر سیاسی معاملات میں وہ وہی فیصلہ کرتے ہیں جو اداروں کی مشاورت کے بعد وہ بہتر سمجھتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی امور یا کسی بھی دوسرے شعبے میں خواتین کی شمولیت مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ اسلامی تہذیب و تمدن ہر دور میں پوری دنیا کے لیے کھلی رہی ہے اورخواتین بھی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مغربی دنیا میں اسلام کے انتہا پسندانہ تصور کے منفی نتائج پربات کرتے ہوئے ملکہ رانیہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ "مغرب اسلام کے بارے میں اگر غلط رائے رکھتا ہے تو یہ اس کی لاعلمی اور جہالت ہو سکتی ہے۔ کچھ ایسے واقعات بھی رو نما ہوتے رہے ہیں جس کے باعث مغربی دنیا نے اسلام کے بارے میں جانب دارانہ طرز عمل اپنایا۔ لیکن جو کچھ وہ اسلام کے بارے میں سوچ رہے ہیں وہ حقیقت سے بہت دور ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام تحمل، بردباری اور برداشت کا دین ہے۔

اسی سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے عالم اسلام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی سرگرمیوں کے بارے میں کہا کہ "میری مساعی کا ہدف اپنے ملک کا استحکام اور پوری مسلم امہ کا دفاع ہے"۔

گھر کے روز مرہ معاملات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "شاہ عبداللہ کی مصروفیات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود ہم رات کا کھانا ایک ہی میز خوان پرکھاتے ہیں۔ تمام تر مصروفیات کے باوجود جمعہ کے روز خاندان کے تمام افراد ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور ضروری کاموں کے لیے صلاح مشورے بھی کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ملکہ" کا لقب اعزاز کے ساتھ بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ مجھے اردنی قوم کی ملکہ ہونے پر فخر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں