عراق: دو خود کش دھماکے، اعلی فوجی افسر سمیت 21 ہلاک

حکومت کی حامی ملیشیا کا سربراہ بھی ہلاک، 46 افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل اور بدھ کی درمیانی شب عراق میں دو مختلف خود کش دھماکوں میں ایک اعلی فوجی افسر سمیت کم از کم 21 افراد ہلاک جبکہ 46 زخمی ہو گئے ہیں۔ دونوں خود کش بم دھماکے بالترتیب وسطی اور جنوبی عراق میں ہوئے ہیں۔

پہلا خود کش بم دھماکہ منگل کی رات بغداد کے شمال میں 40 کلو میٹر کے فاصلے پرطارمیہ نامی قصبے میں عراقی حکومت کے حامی عسکری رہنما جاسم سعید کے گھر بغداد کے نواح میں ہوا۔ خود کش حملہ آور نے خود کو'' کیمو فلاج '' کرنے کیلیے فوجی یونیفارم پہن رکھا تھا۔

مقامی پولی ذرائع کے مطابق اس خودکش حملے میں 14 افراد ہلاک جبکہ 40 زخمی ہو گئے۔ یہ خود کش حملہ اس وقت ہوا جب شیخ سعید جاسم کی طرف سے عشائیہ کی تقریب جاری تھی۔ عشائیہ میں فوج اور پولیس کے بعض افسران بھی موجود تھے۔

خود کش دھماکے کی زد میں آ کر فوج کے بریگیڈیئر جنرل عبدالستار اپنے ایک اور ساتھی افسر اور چھ اہلکاروں سمیت ہلاک ہو گئے۔ چھ ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں تین پولیس اہلکاربھی شامل ہیں۔ تقریب کے میزبان شیخ جاسم سعید بھی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

اس دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں چار پولیس اہکاروں کے علاوہ سہاوا ملیشیا کے سات ارکان بھی شامل ہیں۔

عراق میں دوسرا خود کش بم دھماکہ بھی منگل اور بدھ کی درمیانی شب اس وقت ہوا جب ایک حملہ آور اپنا بارود سے بھرا ٹرک ایک پولیس سٹیشن میں دے مارنے کی کوشش میں تھا۔ یہ واقعہ مشہور عراقی شہر موصل سے تیس کلو میٹر دور المولا نامی گاوں میں ہوا۔

پولیس اہلکاروں نے ٹرک پر فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد ٹرک ڈرائیور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس واقعے میں ابتدائی طور پر 7 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع آئی ہے۔ جبکہ دس مکانات بھی دھماکے کے باعث تباہ ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں