"دوستی پُل" منصوبے پر قطر اور بحرین میں مذاکرات کا دوبارہ آغاز

چالیس کلومیٹر لمبے پُل پر چار ارب ڈالر لاگت آئے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خلیجی ریاستوں قطراور بحرین نے سنہ 2009ء میں پیش کیے گئے "دوستی پل" کے منصوبے پر مذاکرات کا دوبارہ آغاز کیا ہے۔ چار سال قبل پیش چالیس کلومیٹر طویل پل کے اس منصوبے پرچار ارب ڈالرکی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق "دوستی پُل" کے منصوبے پر منامہ۔ دوحہ مذاکرات آج قطر میں ہوں گے۔ امید ہے دونوں ملک اس مشترکہ منصوبے پر جلد از جلد کام شروع کرنے پر متفق ہو جائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "دوستی پُل" کا یہ منصوبہ چارسال پیشتر پیش کیا گیا تھا۔ اگراس پل کی تعمیر پر کام شروع ہو گیا تو یہ دنیا کا طویل ترین پل ہو گا جو سمندر پر تعمیر کیا جائے گا۔ پل پر گاڑیوں کے لیے سڑک کے ساتھ ساتھ ایک ریلوے لائن بھی بچھائی جائے گی۔ پل کی تعمیر سے بحرین اور قطر براہ راست مربوط ہو جائیں گے۔ اس پل کا فائدہ دیگر خلیجی ممالک اور سعودی عرب کو بھی ہو گا۔ سعودی عرب کے شہرالخبر سے کوئی بھی گاڑی براہ راست اس پل سے دوحہ پہنچ سکے گی۔ پل کی تعمیر سے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، سلطنت عمان اور بحرین کی باہمی مسافت بھی کم ہو جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق بحرینی حکام کا اصرار ہے کی "دوستی پل" کی تعمیر پر اٹھنے والے تمام اخراجات دونوں ملکوں کے درمیان برابر تقسیم ہونے چاہئیں تاکہ اس پل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا فائدہ بھی دونوں ملکوں کو پہنچے۔ چار ارب ڈالر کے منصوبے پر بحرین دوارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔

خیال رہے کہ چار سال پیشتر جب اس منصوبے پرغور شروع کیا گیا تو آغاز میں صرف گاڑیوں کی آمد و رفت کی تجویز دی گئی تھی، تاہم بات چیت کے اگلے مراحل میں اب دو رویہ ریلوے لائن کو بھی پل کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

بحرین کے سیکرٹری مالیات عارف خمیس نے گذشتہ روز منامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ملکوں میں درمیان دوستی پل پراجیکٹ پرکام شروع کرانے کے لیے بات چیت [آج] بدھ کے روز دوحہ میں ہو رہی ہے جس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دوستی پل کی لمبائی چالیس کلومیٹرہو گی، اس کی تعمیر پر چار سال کا عرصہ لگے گا اور چار ارب ڈالرخرچ ہوں گے۔ دوستی پل منصوبےکا ڈیزائن ڈنمارک کی ایک تعمیراتی کمپنی" کوی" نے تیار کیا ہے۔ جسے دونوں ملکوں نے منظور کر لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں