جامعہ الازہر میں مرسی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں

پولیس کا تاریخی دانش گاہ کی حدود میں طلبہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصرکے دارالحکومت قاہرہ میں سکیورٹی فورسز نے تاریخی دانش گاہ جامعہ الازہر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامی طلبہ کے مظاہرے کو کچلنے کے لیے دھاوا بولا ہے اور جامعہ کی حدود میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مصر کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مرسی کے حامی طلبہ الازہر کی ایک انتظامی عمارت میں داخل ہوگئے تھے۔اس پر جامعہ کے سربراہ نے پولیس کو ادارے کی ''روح اوراملاک'' کے تحفظ کے لیے طلب کرلیا۔جب پولیس نے طلبہ کو وہاں سے زبردستی نکالنے کی کوشش کی تو ان کے درمیان دھینگا مشتی شروع ہوگئی۔پولیس نے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور ہوائی فائرنگ کی ہے۔

؁ 2010ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پولیس کسی کیمپس کی حدود میں داخل ہوئی ہے۔العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق الازہر کی انتظامیہ کی درخواست کے بعد وزارت داخلہ نے پولیس کو اس عظیم ادارے میں داخل ہونے کا حکم دیا تھا۔

جامعہ کے طلبہ نے بدھ کو احتجاجی مظاہرے کے دوران انتظامی عمارت سے کرسیاں باہر پھینک دیں ،توڑ پھوڑ کی اور دیواروں پر فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت اور مسلح افواج کے سربراہ اوروزیردفاع جنرل عبدالفتاح السیسی کے خلاف توہین آمیز سخت نعرے لکھ دیے۔

واضح رہے کہ الازہر میں مظاہرے ایک بڑا ہی حساس معاملہ ہیں کیونکہ اس تاریخی جامعہ نے ہمیشہ حکومت وقت کی طرف داری کی ہے۔برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کا کہنا ہے کہ برطرف صدر کے حامیوں اور اسلام پسندوں نے اب جامعہ الازہر جیسے حساس مقامات کے انتخاب کی پالیسی اختیار کرلی ہے اور وہ سڑکوں پر بڑی تعداد میں لوگوں کو لانے کے بجائے جامعات کی حدود میں مظاہرے کررہے ہیں۔

جامعہ الازہر اور جامعہ قاہرہ میں گذشتہ کئی روز سے ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی اور فوج کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔دوروز پہلے بھی پولیس نے جامعہ الازہر کے باہر برطرف صدر کے حق میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے فائر کیے تھے اور ان کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

اس کے بعد طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کردیا تھا۔انھوں نے الازہر کے کیمپس کے باہر مارچ کیا اور ایک مرکزی شاہراہ کو بلاک کردیا۔انھوں نے مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی کو منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور ان کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

الازہر اور دوسری جامعات کے طلبہ کی اکثریت محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اورانھوں نے گذشتہ ہفتے بھی مصری فوج اور اس کے تحت عبوری حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔اس دوران ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

مصری سکیورٹی فورسز نے برطرف صدر کو کسی نامعلوم مقام پر قید کررکھا ہے۔ان کے خلاف آیندہ ماہ کے اوائل میں دسمبر2012ء میں صدارتی محل کے باہر حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ان کے ہزاروں حامی ان پرمقدمہ چلائے جانے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں